سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 17
31 حضرت عمر حضرت عمر 30 تیسرا معرکہ یوم العماس کے نام سے مشہور ہے، اس میں مسلمانوں نے سب سے سراقہ کوکنگن پہنانے کا واقعہ پہلے کوہ پیکر ہاتھیوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ، کیونکہ ایرانیوں کے مقابلے میں مجاہدین اسلام کو ہمیشہ اس کالی آندھی سے نقصان پہنچا تھا، اگر چہ قعقاع نے اونٹوں پر سیاہ جھول ڈال کر ہاتھی کا جواب تیار کر لیا تھا۔تا ہم یہ کالے دیو جس طرف جھک جاتے تھے ہجرت کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق مدینہ کی طرف تشریف لے جارہے تھے تو چونکہ مکہ والوں نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص محمد رسول صف کی صف پس جاتی تھی ، حضرت سعد بن ابی وقاص نے فخم وسلم وغیرہ پارسی نومسلموں الله ﷺ کو گرفتار کر کے لے آئے گا اسے سو اونٹیاں انعام میں دی جائیں گی اس لئے کئی سے اس سیاہ بلا کے متعلق مشورہ طلب کیا، انہوں نے کہا ان کی آنکھیں اور سونڈ بریکار کر دیئے جائیں، سعد نے قعقاع ، جمال اور ربیع کو اس خدمت پر مامور کیا۔ان لوگوں نے ہاتھیوں کو نرغے میں لے لیا اور بر چھے مار مار کر آنکھیں بیکار کر دیں، قعقاع نے آگے بڑھ کرفیل سفید کی سونڈ پر ایسی تلوار ماری کہ سونڈ الگ ہو گئی ، جھرجھری لے کر بھاگا، اس کا بھا گنا تھا کہ تمام ہاتھی اس کے پیچھے ہو لئے ، اس طرح دم کے دم میں یہ سیاہ بادل چھٹ گیا۔اب بہادروں کو حوصلہ افزائی کا موقع ملا، دن بھر ہنگامہ کا رزار گرم رہا، رات کے وقت بھی اس کا سلسلہ جاری رہا اور اس زور کا رن پڑا کہ نعروں کی گرج سے زمین دیل اٹھتی تھی ، اسی مناسبت سے اس رات کو لیلتہ الحریرہ کہتے ہیں، رستم پامردی اور استقلال کے ساتھ مقابلہ کرتا رہا، لیکن آخر میں زخموں سے چور ہو کر بھاگ نکلا اور ایک نہر میں کود پڑا کہ تیر کر نکل جائے۔بلال نامی ایک مسلمان سپاہی نے تعاقب کیا اور ٹانگیں پکڑ کر نہر سے باہر کھینچ لایا اور تلوار سے کام تمام کر دیا ، رستم کی زندگی کے ساتھ سلطنت ایران کی قسمت کا بھی فیصلہ ہو گیا، ایرانی سپاہیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔قادسیہ کے معرکوں نے خاندان کسری کی قسمت کا آخری فیصلہ کر دیا ، ان کا جھنڈا ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہو گیا اور اسلامی علم نہایت شان وشوکت کے ساتھ ایران کی سرزمین پر لہرانے لگا۔لوگ آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔انہی لوگوں میں سراقہ بن مالک ایک بدوی رئیس بھی تھا جو انعام کے لالچ میں آپ کے پیچھے روانہ ہوا۔جب اس نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ خوشی سے پھولا نہ سمایا اور اس نے سمجھا کہ اب میں آپ کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا مگر اللہ تعالیٰ اسے اپنا نشان دکھانا چاہتا تھا۔جب وہ آگے بڑھا تو اچانک اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور زمین پر گر گیا۔سراقہ جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ خود اپنا واقعہ بیان کرتا ہے کہ جب میں گھوڑے سے گرا تو عرب کے قدیم دستور کے مطابق میں نے اپنے تیروں سے فال لی کہ مجھے آگے بڑھنا چاہئے یا نہیں اور فال یہ نکلی کہ آگے نہیں بڑھنا چاہئے مگر انعام کے لالچ کی وجہ سے میں پھر گھوڑے پر سوار ہو کر آپ کے پیچھے دوڑا۔جب میں آپ کے اور قریب پہنچا تو پھر میرے گھوڑے نے ٹھو کر کھائی اور میں نیچے گر گیا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ ریت میں گھوڑے کے پاؤں اتنے پھنس گئے تھے کہ ان کا نکالنا میرے لئے مشکل ہو گیا۔آخر میں نے سمجھ لیا کہ خدا اس شخص کے ساتھ ہے۔چنانچہ یا تو میں آپ کو گرفتار کرنے کے لئے آیا تھا یا خود آپ کا عقیدت مند اور شکار بن کر نہایت ادب کے ساتھ خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اس ارادہ کے ساتھ آیا تھا مگر اب میں نے اپنا ارادہ تبدیل کر لیا ہے اور واپس جارہا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ خدا آپ کے ساتھ ہے۔جب سراقہ لوٹنے لگا تو معا اللہ تعالیٰ نے سراقہ کے آئندہ