سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ

by Other Authors

Page 15 of 28

سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 15

27 حضرت عمر حضرت عمر 26 حضرت عمر کی خلافت حضرت ابوبکر بخار کی وجہ سے ۱۵ دن بیمار رہے۔اس دوران حضرت عمر نماز کی امامت کرتے رہے اور حضرت عثمان نے بھر پور طریقے سے تیمارداری کا حق ادا کیا۔حضرت ابوبکر کو احساس ہو گیا تھا کہ یہ آخری بیماری ہے۔حضرت ابو بکر نے صحابہ سے مشورہ کے بعد حضرت عثمان کو بلا کر زندگی کی آخری تحریرلکھوائی۔اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے۔اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آخری اور دوسرے جہاں جاتے ہوئے یہ ابوبکر کی پہلی تحریر ہے۔۔۔۔۔میں نے اپنے بعد عمرؓ کو خلیفہ نامزد کیا ہے۔پس اس کی سننا اور اطاعت کرنا، میں نے اللہ، اس کے رسول، اسلام اور تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتا ہی نہیں کی۔اگر عمر بھی اسی راہ پر قائم رہا اور یقیناً وہ اس پر قائم رہے گا۔اگر اس میں تبدیلی آگئی تو ہر آدمی اپنے اعمال کے لئے خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔میں نے بھلائی کی غرض سے یہ کیا ہے۔ہاں غیب کو خدا ہی جانتا ہے اور عنقریب ظالم جان لیں گے وہ کہاں پھر رہے ہیں۔والسلام علیکم ورحمتہ اللہ “ (أسد الغابه) اس پر اپنی مہر ثبت فرمائی۔حضرت عثمان یہ خط لے کر باہر آئے اور لوگوں سے کہا۔اس خط میں جس شخص کے بارہ میں وصیت ہے کیا تم اس کی بیعت کے لئے تیار ہو۔لوگوں نے اثبات میں جواب دیا۔بعض نے کہا ہم جانتے ہیں جس شخص کے بارہ میں وصیت کی گئی ہے۔چنانچہ سب نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا اور بیعت کا اقرار کیا۔پھر حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو بلایا۔انہیں وصیت کی۔جب عمر رخصت ہوئے تو حضرت ابو بکر نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کہا۔”اے اللہ ! میں نے مسلمانوں کی بہتری کے لئے اور فتنہ سے بچنے کے لئے یہ کیا اور تو اسے خوب جانتا ہے۔میں نے مشورہ سے یہ قدم اٹھایا اور ان کا والی اُسے مقرر کیا جو اُن میں سے سب سے بہتر ، سب سے زیادہ قوی اور ان کی رشد و ہدایت کا سب سے زیادہ خواہاں ہے۔اے اللہ ! اسے اپنے رُشد اور ہدایت یافتہ خلفاء میں سے بنانا۔یہ نبی الرحمۃ کی پیروی کرنے والا ہو۔جن کی باگ ڈور اس کے سپرد ہے وہ اس کے اطاعت گزار ہوں۔“ حضرت عمرؓ کو آپ نے جو وصیت کی وہ یہ تھی۔”اے عمر! اللہ کے بعض حقوق رات کے متعلق ہیں۔وہ ان کو دن میں قبول نہیں کرے گا اور بعض حقوق دن کے متعلق ہیں ان کو وہ رات میں قبول نہیں کرے گا۔جب تک فرائض کی ادائیگی نہ کی جائے اللہ نوافل قبول نہیں کرتا۔“ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک روز آپ کو قدرے افاقہ ہوا تو آپ نے طاقچہ سے سرمبارک نکال کر لوگوں سے فرمایا: میں نے ایک وصیت کی ہے۔کیا تمہیں منظور ہے؟ سب لوگوں نے جواب دیا۔اے خلیفہ رسول ! منظور ہے۔اسی بیماری میں حضرت ابو بکر کی وفات ہوگئی اور خلافت کی ذمہ داری حضرت عمر پر آن پڑی۔حضرت عمرؓ نے تدبیر ، دعا اور نصرت خداوندی سے اس فرض کو خوب نبھایا۔