سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 25
46 حضرت عمر اس روز کے تمام واقعات بیان کر دیتے۔اس سے غرض یہ تھی کہ حضور کی سنت کا کوئی عمل ایسا نہ رہ جائے جو ہمارے علم میں نہ ہو اور ہم اس پر عمل نہ کر سکیں۔حضرت عمر ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز صرف اس لئے پڑھا کرتے کہ آپ نے حضور کو ایک مرتبہ اس مقام پر نماز پڑھتے دیکھا تھا۔حضرت عمرؓ کے صائب الرائے ہونے پر خدا کی تائید حضرت عمرؓ کے صائب الرائے ہونے پر سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ کی اکثر حضرت عمر 47 کہا کہ اسے لے جاؤ اس کے ختم ہونے سے پہلے اللہ فضل کر دے گا۔ساتھی نے عرض کی کہ آپ نے اسے بہت زیادہ دے دیا ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے اس کے باپ اور بھائی کی خدمات دیکھی ہیں۔اسے تول اور ماپ کر دیں یہ مناسب نہیں ہے۔اسی طرح ایک مرتبہ آپ رات کو گشت کر رہے تھے دیکھا ایک مکان میں بچے اور ہے ہیں۔چولہے پر ہنڈیا دھری ہے۔حضرت عمر نے بچوں کے رونے کی وجہ دریافت کی تو عورت نے جواب دیا کہ بچے بھوک کے سبب رور ہے ہیں۔آپ نے فرمایا آگ پر ہنڈیا دھری ہے۔اس میں کیا ہے؟ عورت نے جواب دیا اس میں پانی ڈالا ہے ان کو بہلانے کے آراء مذہبی احکام بن گئیں۔آپ انتہائی درجہ کے نکتہ رس واقعہ ہوئے۔امام سیوطی نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ کم از کم ۲۱ مقامات ایسے ہیں کہ جہاں حضرت عمر کی خدا کے احکام سے موافقت ہوئی۔مقام ابراہیم کو مصلی بنانے کے بارے میں۔پردے کے بارے اور خصوصاً از واج مطہرات کے پردے کے بارے میں وغیرہ۔خبر گیری خلیفۃ الرسول ہونے کے ناطے حضرت عمرؓ اس بات کے لئے ہر وقت بے چین رہتے کہ کہیں ان کی قوم میں سے کوئی فرد تکلیف میں نہ ہو۔ایک رات زید بن اسلم کو ساتھ لے کر حضرت عمر باہر نکلے۔راستہ میں ایک عورت ملی اس نے عرض کی کہ حضور! میرے خاوند فوت ہو گئے ہیں۔میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھوکے ہیں۔ہمارا ذریعہ آمدنی کوئی نہیں ہے۔میں حناف بن ایمن غفاری کی بیٹی ہوں جو حدیبیہ کے مشہور تاریخی موقع پر موجود تھے۔حضرت عمرؓ نے یہ سنا تو گھر آئے۔ایک پر کھانے پینے کا سامان اور کپڑے وغیرہ لا دے اور اونٹ کی نکیل اس عورت کے ہاتھ تھا کر لئے اسے ہلا دیتی ہوں۔یہ اس طرح انتظار کرتے کرتے سو جائیں گے۔حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اسی وقت بیت المال گئے۔ایک تھیلے میں کھانے پینے کی اشیاء، کپڑے اور کچھ درہم ڈالے اور اپنے ساتھی زید بن اسلم کو کہا کہ یہ بوجھ میرے کندھے پر رکھ دو یہ بوجھ اٹھا کر آپ خود اس عورت کے گھر پہنچے۔ہنڈیا میں کچھ آٹا ، کچھ چر بی اور کھجور میں ڈال کر حریرہ پکانا شروع کیا۔جب ہنڈیا پک گئی تو بچوں کو کھانا کھلا کر وہاں سے رخصت ہوئے۔انفاق فی سبیل الله (اسدالغابه) ایک دفعہ آنحضرت نے مالی تحریک فرمائی۔صحابہ نے اس پر لبیک کہا حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ آج میں ابو بکر سے سبقت لے جاؤں گا۔میں گھر گیا اور آدھا مال لا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضرت ابو بکر آئے اور سارا مال جو گھر میں موجود تھا لے آئے۔حضور نے فرمایا کہ گھر کیا چھوڑ آئے ہو۔عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول۔