سیرۃ و سوانح حضرت عمرؓ — Page 16
29 حضرت عمر حضرت عمر 28 خلافت عمر کے اہم کام حضرت ابو بکڑ نے اپنے دور خلافت میں باغیوں سے چھٹکارا حاصل کر کے فتوحات ملکی کا آغاز کر دیا تھا۔خلافت کے دوسرے ہی برس میں عراق پر لشکر کشی ہو چکی تھی اور حیرہ ย کے تمام اضلاع فتح ہو چکے تھے۔ان مہمات کا ابھی آغاز ہی تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق وفات پا گئے۔دراصل حضرت رسول کریم کی حیات مبارکہ میں انہی رومی افواج نے مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رکھی تھیں لیکن رسول کریم ﷺ خود پیش قدمی کر کے تبوک کے مقام پر پہنچے اس طرح دشمن کو آگے بڑھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔لیکن رومیوں کی طرف سے تیاریوں کی خبریں ملتی رہیں۔چنانچہ حضرت ابو بکر نے جس کام کا آغاز کیا۔حضرت عمر نے مسند خلافت پر متمکن ہوتے ہی ان مہمات کی طرف توجہ کی۔اس وجہ سے کئی جنگی مہمات پیش آئیں۔بویب کا معرکہ اور عراق کی فتح ۱۴ھ میں حضرت عمرؓ نے بھر پور تیاری کے ساتھ سارے عرب سے مختلف قبائل پر مبنی لشکر تیار کروایا اور حضرت منی کو سپہ سالار مقرر کیا۔کوفہ کے قریب بویب نامی مقام پر اسلامی فوجوں نے ڈیرے ڈالے۔مجھی سردار مہان پایہ تخت سے روانہ ہو کر سیدھا بویب آیا اور دریائے فرات کے کنارے خیمہ زن ہوا۔جنگ میں مسلمانوں نے بھر پور ہمت، شجاعت، جوانمردی اور اپنی بہترین جنگی قابلیتوں کا اظہار کیا۔گھمسان کی لڑائی ہوئی۔دونوں طرف سے نقصان ہوا مگر عجمی سپہ سالار کے قتل ہوتے ہی لڑائی کا خاتمہ ہو گیا۔عراقی نہایت ابتری سے بھاگے۔انہیں شدید شکست ہوئی۔اس فتح کا عجمیوں پر خاص اثر ہوا۔وہ دہشت زدہ ہو گئے۔اس معرکہ کے بعد مسلمان عراق کے تمام علاقہ میں پھیل گئے لیکن قادسیہ کے معرکہ کے بعد پورا عراق مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔یہ فتح عراق کی فتوحات کا خاتمہ تھی کیونکہ عراق کی حدیں یہاں ختم ہو جاتی تھیں۔حضرت عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو قادسیہ کا سپہ سالار مقرر فرمایا۔جنگ قادسیہ مسلسل جنگوں میں شکست کی وجہ سے آخر رستم نے غضبناک ہو کر جنگ کرنے کا حکم دے دیا اور خود تمام رات جنگی تیاریوں میں مصروف رہا۔صبح کے وقت قادسیہ کا میدان عجمی سپاہیوں سے آدمیوں کا جنگل نظر آنے لگا۔جس کے پیچھے ہاتھیوں کے کالے کالے اور بڑے بڑے پہاڑ تھے جو کہ خوفناک سماں پیدا کر رہے تھے۔دوسری طرف مجاہدین اسلام کالشکر جرار صف بستہ کھڑا تھا، اللہ اکبر کے نعروں سے جنگ شروع ہوئی ، دن بھر شدید جنگ جاری رہی ، شام کو جب تاریکی چھا گئی تو دونوں حریف اپنے اپنے خیموں میں واپس آئے ، قادسیہ کا یہ پہلا معرکہ تھا۔قادسیہ کی دوسری جنگ معرکہ اغواث کے نام سے مشہور ہے۔اس معرکہ میں شام کی چھ ہزار فوج مین جنگ کے وقت پہنچی اور حضرت عمر کے قاصد بھی جن کے ساتھ بیش قیمت تحائف تھے، عین جنگ کے موقع پر پہنچے اور پکار کر کہا ”امیر المومنین نے یہ انعام ان کے لئے بھیجا ہے جو اس کا حق ادا کریں۔“ اس نے مسلمانوں کے جوش و خروش کو اور بھی بھڑ کا دیا ، تمام دن جنگ ہوتی رہی ، شام تک مسلمان دو ہزار اور ایرانی دس ہزار مقتول و مجروح ہوئے لیکن فتح وشکست کا کچھ فیصلہ نہ ہوا۔