حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 10 of 22

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 10

17 16 ہے۔اس بات کو سوچ کر میں ورطہ حیرت و استعجاب میں پڑ جاتا ہوں۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو دے کر مجھے زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا۔اس مہر و وفا کی مجسم نے جب میری بیماری کی اطلاع راولپنڈی میں پائی تو نہایت درجہ پریشانی کی حالت میں فور الا ہور پہنچیں۔یہ میری بیماری کی پہلی رات تھی اور ساری رات موٹر پر ان کو رہنا پڑا صبح چار بجے کے قریب لاہور پہنچیں۔پھر اس قدر تند ہی اور جانفشانی سے میری خدمت میں لگ گئیں کہ میں نہیں کہہ سکتا کوئی دوسری عورت اس قد ر محبت اور پیار کے جذبہ سے اپنے خاوند کی خدمت کر سکتی ہو۔ان ایام میں ملازموں کے علاوہ تمام عزیز رشتہ دار میری خدمت میں لگے ہوئے تھے۔میں اس بیماری میں اپنے آپ کو اس قدر خوش نصیب اور خوش بخت لوگوں میں متصور کرتا تھا جس کا آپ لوگ اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔“ بیماری کے متعلق خواب چلنے پھرنے لگ گئے تھے مگر پوری طرح آرام نہ آیا تھا۔میاں رحم دین صاحب جو حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے قدیمی ملازم تھے اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے سفر یورپ 1924ء میں ہمرکاب رہے۔بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کے والد ماجد سے ان کے ایک دوست سردار جوگندر سنگھ صاحب نے جو پنجاب میں وزیر تھے کہا کہ اپنے بچوں کو بھجوائیں تو میں اعلیٰ ملازمتیں دلوا دوں گا۔حضرت نواب صاحب نے میاں عبد الرحمان کا نام لیا تو سردار صاحب نے میاں عبداللہ خان صاحب کو بھجوانے کے لئے کہا۔لیکن نہ صرف حضرت نواب صاحب نے بلکہ میاں صاحب موصوف نے بھی انکار کیا اور کہا کہ میں دنیوی ملازمت کا خواہش مند نہیں۔اول تو میں سلسلہ کی خدمت کروں گا، ورنہ تجارت۔(( رفقاء) احمد جلد 12 صفحہ 145) چنانچہ آپ کو خواہش کے مطابق تجارت میں بھی خدا تعالیٰ نے خوب برکت دی اور خدمات سلسلہ بھی بجالانے کی توفیق آپ کو ملی۔خدمات سلسلہ آپ نے متعد د خدمات سلسلہ کی توفیق پانچن کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔1919-1 ء میں بطور قائم مقام آڈیٹر حضرت نواب صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی بیماری کے آغاز میں خواب دیکھا کہ حضرت والد صاحب ایک باغ میں ہیں جس کے اردگرد ایک اونچی فصیل بنی ہوئی ہے۔لیکن میں اس کے اندر جانا چاہتا ہوں اور نٹوں کی طرح ایک بانس کا سہارا لے کر اندر جانا چاہتا ہوں لیکن حضرت والد صاحب مانع ہو رہے ہیں اور ان کے حکم سے پولیس مجھے پکڑ کر لے گئی ہے اور مجھے پانچ سال کی قید سنادی گئی ہے۔یہ خواب میں نے کئی عزیزوں کو کئی بار سنایا ہے اور آج یہ خواب پورا ہوتا نظر آتا ہے۔کیونکہ میری بیماری کے عرصہ کو 8 فروری 1954ء کو پورے پانچ سال ہو جائیں گے۔میرے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور دیگر احباب کو کثرت سے بشارتیں احمد یہ رقم فرماتے ہیں: ہوئیں۔ان سے پتہ چلتا ہے کہ میری صحت اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم سے اور ترقی کرے گی۔(( رفقاء ) احمد جلد 12 صفحہ 87,88) اس بیماری کی وجہ سے آپ صاحب فراش ہو گئے تھے۔پانچ سال کے بعد آپ تھوڑا بہت رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ بابت 1919, 1918، صفحہ 14) 2۔جلسہ 1917ء کے متعلق حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب جنرل سیکرٹری صدر انجمن میں اب سب احمدیان قادیان کا اور ممبران سب کمیٹی برائے انتظام جلسہ سالانہ کا، خصوصاً صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب وصاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ومیاں عبداللہ خان صاحب اور ماسٹر محمد دین صاحب بی۔اے کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ