حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 5
7 CO رخصتانه 22 فروری1917ء بروز جمعرات حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا رخصتانہ عمل میں آیا۔اور مورخہ 23 ،24 فروری 1917ء کو حضرت نواب صاحب نے کوٹھی دار السلام میں احباب کو دعوت ولیمہ پر مدعو کیا۔اولاد والا ہے۔اس کی تعبیر بعد میں سمجھ آئی کہ میرے دونوں سگے بھائیوں کی شادیاں غیر احمدی خاندانوں میں ہوئیں اور وہ اولاد سے محروم رہے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد در اولا ددی۔شادی کی برکات اس شادی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نواب صاحب کو دینی و دنیوی حسنات سے (( رفقاء ) احمد جلد 12 صفحہ 60) نوازا اور غیب سے اللہ تعالیٰ نے عجیب در عجیب رنگ میں آپ کی مشکلات کو دور فر مایا۔سندھ میں آپ نے اراضی خریدی تو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن حضرت اماں اللہ تعالیٰ نے حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب اور دخت کرام حضرت امتہ الحفیظ بیگم جان، خاندان حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت بخشی اور آپ کو ان نا مساعد حالات سے باہر نکالا۔ان حالات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب صاحبہ کو جو اولاد عطا فرمائی ان کے اسماء درج ذیل ہیں: 1۔صاحبزادی آمنہ بیگم صاحبہ 2۔صاحبزادہ عباس احمد خاں صاحب 3۔صاحبزادی طاہرہ بیگم صاحبہ 4۔صاحبزادی ذکیہ بیگم صاحبہ 5۔صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ 6۔صاحبزادہ شاہد احمد خاں صاحب 7۔صاحبزادی فوزیہ بیگم صاحبہ 8۔صاحبزادہ مصطفی احمد خاں صاحب حضرت مولوی ظہور حسین صاحب مجاہد بخارا بیان کرتے ہیں کہ حضرت نواب صاحب فرماتے تھے کہ حضرت خلیفہ اول کی نصیحت کے مطابق احمدی رشتہ کے حصول کے لئے دعائیں کیں۔ایک پٹھان بزرگ نے جن سے میں دعا کرواتا تھا خواب دیکھا کہ ایک تین کونوں والا باغ ہے جس کے دو کو نے تو سوکھ گئے ہیں مگر تیسرا کو نہ نہایت سرسبز و شاداب اور پھلوں پھولوں فرماتے ہیں کہ ” خدا تعالیٰ نے عجیب در عجیب رنگ میں میری مشکلات کو دور فرمایا۔مجھے ہر رنگ میں نوازا۔میری اس قدر پردہ پوشی فرمائی جس کا اندازہ سوائے میری ذات کے کوئی نہیں لگا سکتا۔جب میں نے نواب شاہ سے یہاں آنے کے لئے استخارہ کیا کہ کیا میں اس رقبہ کو حاصل کروں یا نہ۔تو اس دعا اور استخارہ کے نتیجے میں میں نے ایک لرزا دینے والی آواز سنی جو کہ میرے اپنے وجود میں پیدا ہورہی تھی کہ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ إِنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔اس رقبہ کو لینے کے بعد کس قدر مایوس کن حالات پیش آئے وہ لوگ جو اس وقت میرے ساتھ تھے وہ جانتے تھے کہ کس قدر مشکلات کا سامنا تھا۔بسا اوقات میں خود یہ محسوس کرتا تھا کہ میں سندھ میں نہ رہ سکوں گا۔لیکن خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ مجھے عزت دے گا اور اپنی قدرت نمائی دکھائے گا۔میری ہر ایک دقت اور مصیبت میرے لئے ایک سیٹرھی تھی جو کہ مجھے رفعت اور بلندی کی طرف لے جاتی رہی۔اس زمانہ میں میرے مولیٰ نے