حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ؓ — Page 11
19 18 انہوں نے دن رات محنت اور مشقت اٹھا کر اور گرم بستروں کو خیر باد کہہ کر اپنے عزیز مہمانوں کی خاطر مدارات کی۔جَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ برکات ہوا بلکہ آپ کے خاندان کے لئے بھی تا ابد باعث صد افتخار ہوا کہ حضرت مسیح موعود کی صاحبزادی حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے 24 اگست 1962ء کو زیورک میں وارد ہو کر اگلے 3۔جلسہ سالانہ 1919ء میں مہمانوں کے متعلق ضروری انتظامات اور جلسہ گاہ کی تیاری دن بروز ہفتہ صبح ساڑھے دس بجے قلب یورپ میں یعنی سوئٹزر لینڈ کے مرکزی شہر زیورک میں کا کام آپ کے سپر د تھا۔4۔جلسہ سالانہ 1924ء میں آپ مہتم جلسہ سالانہ بیرون قصبہ تھے۔5۔حضرت مصلح موعود نے 11 اپریل 1944ء کو بعد نماز مغرب بیان کیا: ایک دفعہ رویا میں میں نے دیکھا کہ ہمارے مکانات کے ایک کمرہ میں حضرت مسیح موعود چار پائی پر بیٹھے ہیں اور میں بھی آپ کے ساتھ بیٹھا ہوں۔اتنے میں زلزلہ آیا اور وہ زلزلہ اتنا شدید ہے کہ اس کے جھٹکوں سے مکان زمین کے ساتھ لگ جاتا ہے۔یہ دیکھ کر میں وہاں سے بھاگنے لگا ہوں مگر معا مجھے خیال آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود بھی تو یہیں تشریف رکھتے ہیں میں کس طرح بھاگ سکتا ہوں۔جب زلزلہ ہٹا اور میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ میاں عبداللہ خان باہر کھڑے ہیں اتنے میں پھر زلزلہ آیا اور مکان اپنی جگہ واپس چلا گیا۔صرف اس کی مٹی ذرا ٹیڑھی ہے اور میں خواب میں ہی کہتا ہوں کہ مکان اپنی جگہ واپس آ گیا ہے۔“ خانہ خدا کی عمارت کا سنگ بنیاد اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اپنے دست مبارک سے رکھنے کی توفیق پائی۔یہ یورپ کی پانچویں (بیت الذکر ) ہے۔ایک خصوصی تقریب میں آپ نے زیر تعمیر ( بیت الذکر کی محراب والی جگہ کے نیچے بنیاد میں وہ اینٹ جس پر سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے دعا کی ہوئی تھی رکھی۔تبرکات حضرت مسیح موعود نظارت تالیف و تصنیف کے اعلان کے مطابق حضرت میاں صاحب کے پاس درج ذیل تبرکات تھے۔1۔ایک گرم کوٹ 2۔ایک کر پی لمل 3۔ایک پاجامہ -4 ایک صندوقچی جس میں حضرت صاحب مسودہ جات وغیرہ رکھا کرتے تھے۔5۔ایک چوتہی جو کہ وقت وصال حضور کے زیر استعمال تھی۔6۔ایک دوتی جس پر حضور نے برکت کی دعا فرما کر عطا فرمائی۔الفضل 10 مئی 1944 صفحہ 5) چنانچہ تقسیم ہند کے بعد حضرت میاں صاحب کو اولین ناظر اعلی کے طور پر خدمات تفویض ہوئیں جو انھوں نے کمال حسن و خوبی سے سرانجام دیں۔6۔آپ کو تالیف واشاعت اور انسداد ارتداد کے شعبہ جات میں بھی خدمات بجالانے کا ایک ٹویی۔موقعہ ملا۔آپ نے ناظر اور پھر نائب ناظر اشاعت کے طور پر بھی کام کیا۔7۔حضور کے عمامہ مبارک سے کاٹ کر ایک ململ کا کرتہ نوزائیدہ بچہ کو پہنانے کے لئے اور اولاد کو وصیت (( رفقاء ) احمد جلد 12 صفحہ 94,95) آپ نے قرب وفات محسوس کر کے وصیت رقم فرمائی۔اس میں سے کچھ حصے درج اولین ( بیت الذکر ) سوئٹزر لینڈ کا سنگ بنیاد تاریخ احمدیت میں یہ امر ہمیشہ یادگار رہے گا جو نہ صرف یورپین ممالک کے لئے موجب کئے جاتے ہیں۔