حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 11 of 18

حضرت مصلح موعود ؓ — Page 11

18 17 صاحب ( مرحوم ) اور صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب ( مرحوم) پیدا ہوئے۔آپ کو مردوں اور عورتوں دونوں کی تعلیم کا خیال رہتا تھا لڑکوں کے لئے سکول تو پہلے ہی تھا لیکن آپ نے ان کی دینی تعلیم کے لئے جامعہ احمد یہ بنایا کہ احمدی بچے یہاں پڑھیں اور اچھے (مربی) بن کر لوگوں کو احمدیت کی تعلیم دیں۔۱۵ سر اپریل ۱۹۲۸ ء کو جامعہ احمدیہ قائم ہوا جواب بھی ربوہ میں قائم ہے۔یہاں سے احمدیت کے (مربی) تیار ہو کر نکلتے ہیں جو اپنے ملک میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی احمدیت اور ( دین حق ) کے متعلق لوگوں کو بتاتے ہیں ان کی کوششوں اور خدا کے فضل سے ہر سال بہت سے لوگ احمدی ہو جاتے ہیں۔لڑکوں کو اعلی تعلیم دلوانے کے لئے آپ نے تعلیم الاسلام کا لج بھی بنایا۔دسمبر ۱۹۳۰ ء میں آپ کے بڑے بھائی حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس طرح ایک رنگ میں یہ پیشنگوئی بھی پوری ہوئی کہ وہ تین کو چار کر نے والا ہوگا“۔آپ کو صرف احمدیوں سے ہی پیار نہیں تھا بلکہ آپ کو دوسرے مسلمانوں سے بھی بہت زیادہ ہمدردی تھی۔کشمیر کے مسلمانوں پر بہت سالوں سے ہندو ظلم کر رہے تھے۔۱۹۳۱ء میں یہ ظلم بہت زیادہ بڑھ گئے اور کشمیر کی ہندو حکومت نے سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کروا دیا۔ان کی جائیداد میں لوٹ لیں۔بہت سے مسلمانوں کو قید کر لیا۔کشمیر کے مسلمانوں نے آپ کو واقعات لکھے اور درخواست کی کہ آپ کشمیر کے معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔آپ نے فوراً وائسرائے ہند کو تار دلوائی کہ کشمیر کے مسلمانوں کی مشکلات دور کی جائیں۔اس کے علاوہ آپ نے مسلمانوں کے سارے بڑے بڑے لیڈروں کا ایک اجلاس شملہ میں بلایا جس میں آپ نے کہا کہ کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے جو کوشش کر کے ان کا حق انہیں دلوائے۔چنانچہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی بن گئی اور خواجہ حسن نظامی اور علامہ اقبال نے صدارت کے لئے آپ کا نام پیش کیا۔پہلے تو آپ نے بہت انکار کیا لیکن ان کے بار بار زور دینے پر کہ مسلمانوں کو اس وقت آپ کی مدد کی ضرورت ہے آپ مان گئے۔اس زمانہ میں ریاست کشمیر کے بڑے بڑے مسلمان لیڈر آپ کے پاس قادیان آتے تھے اور آپ سے مشورے لیتے تھے۔آخر آل انڈر یا کشمیر کمیٹی کی کوششوں سے مہاراجہ کشمیر نے مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے کا وعدہ کر لیا۔۳۰ ستمبر ۱۹۳۵ء کو حضرت اصلح الموعود کی شادی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی بیٹی حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ سے ہوئی۔ان کی ایک بیٹی ہیں جن کا نام صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ ہے۔لمصل ۱۹۴۷ء میں جب پاکستان بنا تو جماعت احمدیہ نے اپنے محبوب آقا حضرت مصلح موعود کی ہدایات کے مطابق بہت کام کیا اور بہت قربانیاں دیں۔پاکستان بننے کے وقت باوجود اس کے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں سے بہت زیادہ تھی ہندو مہاراجہ نے انگریزوں کے ساتھ مل کر کشمیر کو ہندوستان میں شامل کروالیا تھا۔کشمیر کے مسلمان پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے