حضرت مصلح موعود ؓ — Page 10
16 15 الاحمدیہ کی تعظیم بھی بنائی گئی جس میں سے سے ۱۵ سال تک کی احمدی بچیاں شامل ہوتی ہیں۔لجنہ اور ناصرات کی تنظیمیں اس لئے بنائی گئیں تا کہ احمدی عورتوں کو دینی تعلیم دی جاسکے۔اور وہ اچھی بہنیں، اچھی بیٹیاں، اچھی مائیں اور اچھی بیویاں بنیں۔بچو! ۱۲ ۷ء میں محمد بن قاسم نے ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم کی۔اس کے بعد ہندوستان کے بہت سے ہندومسلمان ہو گئے لیکن ان میں سے بعض علاقوں کے مسلمانوں کے طور طریقے سب ہندوؤں جیسے ہی تھے اور وہ بس نام کے مسلمان تھے۔کئی سو سال تک وہ اسی طرح مسلمان رہے۔لیکن اٹھارہویں صدی میں پنڈت دیانند سرسوتی نے ایک ایسی تحریک چلائی جس کا مقصد دوسرے مذہب کے لوگوں کو ہندو بنانا تھا اسے شدھی کی تحریک کہتے ہیں اس کی وجہ سے بہت سے ایسے مسلمان جن کو اسلام سے پوری واقفیت نہ تھی ہندو ہو گئے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے ۱۹۲۳ء کے شروع میں شدھی تحریک کے خلاف کام شروع کیا اور احمدیت کے (مربی) ان جگہوں میں بھیجے جہاں شدھی تحریک زوروں پر تھی۔اس کے نتیجہ میں بہت سے مسلمان ہندو ہونے سے بچ گئے اور بہت سے لوگ جو ہندو ہو گئے تھے دوبارہ مسلمان ہو گئے۔اخبار ”زمیندار“ نے اس کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:۔احمدی بھائیوں نے جس خلوص ، جس ایثار، جس جوش اور جس ہمدردی سے اس کام میں حصہ لیا ہے وہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے۔“ ۱۹۲۴ ء کے شروع میں انگلستان میں ویمبلے پارک میں ایک نمائش لگی جس کے ساتھ ایک مذہبی کا نفرنس بھی ہوئی تھی۔اس کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے وو حضرت مصلح موعود خود تشریف لے گئے۔اس کانفرنس میں آپ کا مضمون " احمدیت یعنی حقیقی (دین) مکرم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے پڑھا جو بہت پسند کیا گیا۔حضرت سیدہ امتہ الحئی صاحبہ کی وفات کے بعد ۱۳ را پریل ۱۹۲۵ء کو حضرت مولوی عبدالماجد صاحب بھاگلپوری کی صاحبزادی حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ سے آپ کا نکاح ہوا جن کے دو بیٹے صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب (مرحوم)، صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب اور ایک بیٹی صاحبزادی امتہ النصیر صاحبہ ہیں۔ہم نے پہلے بتایا تھا نا کہ آپ نے احمدی عورتوں کے لئے لجنہ اماء اللہ قائم کی تا کہ احمدی عورتیں مل جل کر کام کرنا سیکھیں۔لجنہ قائم کرنے کے۳ سال بعد ۱۹۲۵ء میں احمدی عورتوں کی علمی ترقی کے لئے آپ نے قادیان میں مدرسۃ الخواتین کی بنیاد رکھی جس میں دوسرے استادوں کے علاوہ آپ خود بھی پڑھاتے تھے۔آپ کو عورتوں کی اصلاح کا بہت خیال رہتا تھا۔چنانچہ آپ فرماتے تھے کہ اگر پچاس فیصد عورتوں کی اصلاح ہو جائے تو جماعت ترقی کرے گی“ اسی لئے آپ نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے سکول اور کالج بھی بنوایا تا کہ احمدی لڑکیاں یہاں پڑھیں اور دوسری تعلیم کے ساتھ انہیں دینی تعلیم بھی دی جائے تا کہ وہ کچی احمدی ( مومن ) عورتیں بنیں۔یکم فروری ۱۹۲۶ ء کو حضور کا نکاح سیٹھ ابوبکر یوسف صاحب آف جدہ کی بیٹی حضرت عزیزہ بیگم صاحبہ سے ہوا۔ان سے دو بیٹے صاحبزادہ مرزا وسیم احمد