حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ

by Other Authors

Page 8 of 18

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 8

13 12 صاحب سے عرض کیا کہ محمد حسین صاحب بھی یہاں ہیں۔حضور نے فرمایا انہیں ہماری سے عرض ہر روز حضور کے حالات اور الہامات لکھ کر بھیج دیا کرتے تھے۔سفر میں حضور کے آرام و اطلاع کرد و محمد حسین صاحب سے آپ ( یعنی منشی صاحب کا پرانا تعلق تھا۔آپ جو آسائش کا خیال رکھنا، مخالفوں کی روش پر کڑی نظر رکھنا اور تمام حالات سے باخبر رہتا۔اسے ملے تو اس نے مزاحیہ انداز میں کہا : " او کپور تعلیم ! تم ابھی بھی گمراہی نہیں ضروری خدمات کو از خود کسی کی فرمائش کے بغیر ادا کرنا اور ہر امر میں محتاط اور چوکس رہنا حضور کے رفقاء کا وصف تھا اور حضرت منشی صاحب کی روایات میں یہ امور جابجا نظر 66 چھوڑتے۔“ منشی صاحب حضرت صاحب دہلی تشریف لے جارہے ہیں۔محمد حسین: پھر مجھے اس سے کیا ؟ منشی صاحب پھر آپ کا کام وہاں کون کرے گا ( یہ ایک بڑا طنز یہ اشارہ تھا جس پر محمد حسین صاحب نے منشی صاحب کو بے تکلفانہ بُرا بھلا کہنا شروع کیا اور پھر کہا!) محمد حسین: میں نے مرزا صاحب کی تردید میں ایک بڑا پر زور مضمون لکھا آتے ہیں۔وفات وفات سے ایک سال قبل آپ نے ایک رؤیا دیکھی جس میں خود کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس دیکھا اور اس کے بعد سے گویا آپ چلنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے۔15 اگست 1941ء کو آپ بیمار ہو گئے اور پیچش اور دست کا عارضہ لاحق ہو گیا۔تھا۔آپ کوسنا تا مگر اتفاق ایسا ہوا ہے کہ جس بیگ میں وہ مضمون تھا وہ گم ہو گیا ہے۔پھرتے اور بیگی، باوجود ہمہ قسم کے علاج کے طبیعت نہ سنبھلی اور حالت روز بروز کمزور منشی صاحب تو کیا آپ اب بھی ایمان نہیں لاتے ؟ محمد حسین: اچھا تو یہ بھی مرزا صاحب کی کرامت ہوئی ؟ منشی صاحب تو اور کیا کرامت کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ محمد حسین: تو کیا میں پھر وہ مضمون نہیں لکھ سکتا ؟ نشی صاحب تو کیا خدا اسے پھر تم نہیں کر سکتا ؟ ہوتی گئی۔اس کمزوری کے باوجود آپ خود اٹھنے بیٹھنے کی کوشش کرتے۔اس بیماری کے دوران ایک دوست حکیم محمد یعقوب صاحب ملنے کیلئے آئے اور کہا منشی صاحب ! آپ فکر نہ کریں۔جب وہ چلے گئے تو اپنے بیٹے شیخ محمد حمد مظہر صاحب سے بڑے استغناء سے مسکراتے ہوئے فرمایا: ” مجھے ذرا بھی ڈر نہیں کہ موت آئے۔میرا جہاز بھرا ہوا ہے۔مطلب یہ تھا کہ خدا کے فضل سے میرا انجام بخیر ہوگا۔لہذا 20 اگست 1941 کو 66 (( رفقاء ) احمد جلد چہارم ص 20) اسی بیماری میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کو حافظ محمود الحق صاحب نے غسل دیا۔کپورتھلہ کے ( رفقاء) نے مرکز میں رہنے والے دوستوں کو پابند کیا ہوا تھا کہ وہ کپورتھلہ میں آپ کے بیٹے حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی۔