حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 10
17 16 میں گذر کر گورداسپور پہنچے۔ان میں منفی الظفر احمد صاحب کپورتھلہ کے مخلص ترین دوست بھی تھے۔“ ( الحکم مورخہ 28 جون 1918ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں آپ کا مقام ہم تین ہو گئے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے بارے میں حضرت مسیح موعود ازالہ اوہام طبع اول کے صفحہ 800 میں فرماتے ہیں: آپ کی چند دلچسپ روایات حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب حضور کو مسیح موعود ہونے کا الہام ہوا تو میرے دوست منشی اروڑا صاحب نے ذکر کیا کہ ایک بڑا ابتلاء آنے والا وجی فی اللہ منشی ظفر احمد صاحب۔یہ جوان صالح کم گو اور خلوص سے بھرا دقیق ہے۔وہ قادیان سے یہ الہام سن کر آئے تھے۔میں نے ان سے دریافت کیا مگر انہوں فہم آدمی ہے۔استقامت کے آثار وانوار اس میں ظاہر ہیں۔وفا داری کی علامات نے نہ بتلایا۔مگر یہی کہتے رہے کہ ایک بڑا ابتلاء آنے والا ہے۔اس پر میں خود قادیان و امارات اس میں پیدا ہیں۔ثابت شدہ صداقتوں کو خوب سمجھتا ہے اور ان سے چلا گیا تو حضور نے فرمایا کہ ہمیں یہ الہام ہوا ہے۔میں نے اسی وقت عرض کیا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ان کا زمانہ پائے وہ میرا سلام انہیں پہنچائے۔لذت اٹھاتا ہے۔اللہ اور رسول سے سچی محبت رکھتا ہے اور ادب جس پر تمام مدار حصول فیض ہے اور حسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے دونوں سیر تیں ان میں پائی اس لئے میں آنحضرت ﷺ کی طرف سے حضور کو سلام پہنچاتا ہوں۔حضور بہت ہی جاتی ہیں۔جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ 66 اور آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ 82 میں فرماتے ہیں: ترجمه حجمی فی الله منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی۔خوش ہوئے اور فر مایا کہ جس اخلاص اور محبت سے کپورتھلہ والوں نے مانا ہے اس کی نظیر کم ہے۔اس کے کچھ دن بعد میں نے واپسی کی اجازت چاہی کہ اپنے دوستوں کو جا کر اطلاع دوں۔حضور نے فرمایا آپ ذرا ٹھہریں میں ایک کتاب فت لکھ رہا ہوں وہ چھپ جائے تو لے کر جائیں۔میں ایسے دلائل دوں گا کہ مخالفوں کو ڈھونڈ و گے تو گھر سے نہ ملیں گے۔میں کپورتھلہ واپس آیا تو منشی روڑا صاحب، محمد خان صاحب سے اس دعوی کا