حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 7
11 10 حضرت منشی ظفر احمد صاحب حضرت منشی ظفر احمد صاحب خود بیان فرماتے ہیں: خادم اپنے آقا کی نگاہ میں سبز کاغذ پر جب اشتہار حضور نے جاری کیا تو میرے پاس بھی 7،6 اشتہار حضور حضرت منشی صاحب بہت اچھے انشاء پرداز بھی تھے۔بہت پاکیزہ خط اور زود نے بھیجے۔منشی اروڑا صاحب فوراً لدھیانہ کو روانہ ہو گئے۔دوسرے دن محمد خان صاحب اور میں گئے اور بیعت کرلی۔منشی عبد الرحمن صاحب تیسرے دن پہنچے کیونکہ نویسی میں خاص ملکہ تھا اور اس پر پھر حضرت صاحب کی کتب کا بکثرت مطالعہ یہ سب انھوں نے استخارہ کیا اور آواز آئی ”عبد الرحمن آجا۔ہم سے پہلے آٹھ نوکس بیعت کر امور بھی حضرت صاحب سے قرب کا باعث ہوئے۔جب آپ قادیان ہوتے تو حضور کی ڈاک اور جوابات کا لکھنا آپ کے سپرد ہوتا۔بہت دفعہ حضرت صاحب چکے تھے۔بیعت حضورا کیلے اکیلے کو بٹھا کر لیتے تھے۔اشتہار پہنچنے سے دوسرے دن مضامین واشتہارات بول کر آپ کو لکھواتے۔جنگ مقدس یعنی آٹھم والا مباحثہ بھی چل کر تیسرے دن صبح ہم نے بیعت کی۔پہلے منشی اروڑ ا صاحب نے پھر میں نے۔آپ کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔آپ کو ز و دنویسی کی وجہ سے حضرت صاحب کی خدمت کا میں جب بیعت کرنے لگا تو حضور نے فرمایا کہ آپ کے رفیق کہاں ہیں ! میں نے بہت موقع ملا۔( رفقاء) احمدجلد چہارم ص 11 پر حضرت خلیفہ المسح الا ول کا ایک قول درج ہے عرض کی منشی اروڑا صاحب نے تو بیعت کر لی ہے اور محمد خان صاحب نہا رہے ہیں کہ نہا کر بیعت کریں۔چنانچہ محمد خان صاحب نے بیعت کر لی۔ان کے ایک دن بعد منشی کہ آپ نے حضرت منشی صاحب سے فرمایا کہ مجھے آپ پر رشک آتا ہے کیونکہ آپ کا عبد الرحمن صاحب نے بیعت کی۔منشی عبد الرحمن صاحب ،منشی اروڑا صاحب اور محمد زود نو لیس ہونا بھی حضرت صاحب سے قرب کا موجب ہے۔خان صاحب تو بیعت کر کے واپس آگئے کیونکہ یہ تینوں ملازم تھے۔میں 15، 20 روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے متعلق واقعات میں اپنی رسا طبیعت لدھیانہ ٹھہرا رہا اور بہت سے لوگ بیعت کرتے رہے۔حضور تنہائی میں بیعت لیتے اور حاضر جوابی کی وجہ سے دقیق الفہم کا لفظ لکھا ہے۔حضرت مسیح موعود کے قریباً ہر سفر تھے اور کواڑ بھی قدرے بند ہوتے تھے۔بیعت کرتے وقت جسم پر ایک لرزہ اور رفت میں آپ ساتھ ہوتے تھے کیونکہ کپورتھلہ والے حضور کی ہر بات پر دھیان رکھتے تھے طاری ہو جاتی تھی۔اور دعا بعد بیعت بہت لمبی فرماتے تھے۔اس لئے ایک دن میں اور خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔بیس پچیس کے قریب بیعت ہوتے تھے۔ایک دفعہ حضرت صاحب دہلی تشریف لے جارہے تھے۔آپ بھی ساتھ تھے۔(( رفقاء ) احمد جلد چہارم صفحه 21) امرتسر کے اسٹیشن پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پائے گئے۔آپ نے حضرت