حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ

by Other Authors

Page 12 of 18

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 12

21 20 ہوئے بیان کیا کہ جب سرمہ چشم آریہ طبع ہوئی تو حضور نے چار نسخے مجھے اور چار منشی مجھے اپیل نویس ہی رہنے دینا ہے۔حضور نے فرمایا اس میں آزادی ہے آپ اکثر چراغ محمد صاحب کو کپورتھلہ بھیجے۔چراغ محمد صاحب دینا نگر ( گورداسپور ) کے ہمارے پاس آجاتے ہیں اور زیادہ عرصہ آپ کو ہمارے پاس رہنا میسر ہے۔پھر وقفہ رہنے والے تھے۔محمد خان صاحب ،منشی اروڑ ا صاحب ،منشی عبد الرحمن صاحب اور کے بعد حضور نے فرمایا اچھا یوں ہو کہ منشی اروڑ صاحب کسی اور ملازمت پر چلے جائیں خاکسار سرمہ چشم آریہ ( بیت الذکر ) میں پڑھا کرتے تھے۔پھر محمد خان صاحب، اور آپ ان کی جگہ پر ملازم ہو جائیں۔منشی اروڑا صاحب اور میں قادیان میں گئے۔منشی اروڑا صاحب نے کہا کہ خدا کی شان ہے کہ یہ بات من وعن پوری ہوئی۔حضور کی زندگی میں آپ اپیل بزرگوں کے پاس خالی ہاتھ نہیں جایا کرتے چنانچہ تین چار روپے کی مٹھائی ہم نے نولیس ہی رہے اور حضور کی خدمت میں کثرت سے حاضری کا موقعہ ملتا رہتا۔حضور پیش کی۔حضور نے فرمایا یہ تکلفات ہیں۔آپ ہمارے مہمان ہیں ہمیں آپکی تواضع کے وصال کے بعد کا واقعہ ہے کہ منشی اروڑ ا صاحب نائب تحصیلدار ہو گئے۔اور آپ کرنی چاہیے۔پھر ہم تینوں نے بیعت کے لئے کہا۔کیونکہ سرمہ چشم آریہ پڑھ کر مستقل طور پر سر رشتہ دار ہو گئے۔ہم تینوں بیعت کا ارادہ کر کے گئے تھے۔آپ نے فرمایا مجھے بیعت کا حکم نہیں لیکن ہم سے ملتے رہا کرو۔پھر ہم تینوں بہت دفعہ قادیان گئے اور لدھیانہ بھی کئی دفعہ حضور کے پاس گئے۔(( رفقاء ) احمد جلد چہارم صفحه 17) ہم اور آپ کوئی دو ہیں؟“ (( رفقاء ) احمد جلد چہارم صفحہ 80) اس میں آزادی ہے ملک غلام فرید صاحب بیان فرماتے ہیں کہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے ایک ملاقات میں دوران گفتگو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اپنے تعلق کا ایک واقعہ سنایا۔فرمانے لگے۔ایک دفعہ میں قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خطوط آپ گو کہ اپیل نویس تھے مگر دراصل سررشتہ داری ہیڈ کلرک) کا کام کرتے تھے۔کے جوابات دینے پر مامور تھا۔حضور ہر روز کی ڈاک مجھے دے دیتے۔میں خود ہی ان حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی صورت رہی۔اپنے اس پیشہ سے متعلق ایک واقعہ مخطوط کو پڑھتا اور خلاصہ حضور کو سنا دیتا۔حضور جو جواب لکھواتے میں وہ لکھ کر بھیج دیتا۔بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حضور کے پاؤں دبا رہا تھا۔میں نے عرض کیا حضور ایک دن ڈاک میں ایک خط آیا۔اس پر لکھا ہوا تھا کہ اس مخطہ کو حضرت مسیح موعود علیہ