حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ

by Other Authors

Page 11 of 18

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی ؓ — Page 11

18 19 ذکر کر چکے تھے اور دونوں میرے انتظار میں یکہ خانہ کپورتھلہ پر جایا کرتے تھے۔میں صاحب رہ گئے۔حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب حاجی پور سے روز آتے اور چلے جب واپس آیا تو میں نے یکے میں سے ہی کہا کہ ہمارا تو پہلے سے ہی ایمان ہے۔جاتے مگر منشی صاحب دھونی رمائے بیٹھے تھے۔ایک دن حضرت اقدس علیہ الصلوۃ آپ (منشی اروڑا صاحب) یہ ابتلاء کیا لئے پھرتے تھے۔اس پر دونوں صاحب مجھ والسلام نے اس نظارہ کو دیکھ کر انہیں خطاب کر کے فرمایا سے لپٹ گئے (بغلگیر ہو گئے ) کہ ہم اب تین ہو گئے"۔66 نواں نو دن پرانا سودن۔“ پھر ہم نے اسی وقت بلا توقف جا کر منشی عبد الرحمن صاحب سے ذکر کیا تو انھوں حضرت منشی صاحب نے اپنی اس سعادت پر جائز نظر کیا۔فرمایا کرتے تھے مجھے اس وقت بہت ہی لطف آیا کہ میں خدا کے فضل سے سودن والوں اور پرانوں میں نے معاً کہا۔آمَنَّا وَصَدَّقْنَا۔(( رفقاء) احمد جلد چہارم صفحہ 125) شریک ہوں اور میں دل میں سمجھتا تھا کہ الحمد للہ اب خلوت میسر آ گئی۔مگر چند روز کے نیانو دن پرانا سودن بعد پھر حلقہ احباب وسیع ہونے لگا۔ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جالندھر کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے اور اکثر احباب بھی اس موقعہ پر آگئے۔ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کہ حضور کسی مقام پر گئے ہوں میں رونے لگا اور احباب پروانوں کی طرح ادھر اُدھر سے آکر جمع نہ ہو گئے ہوں۔ان آنے والوں (( رفقاء) احمد جلد چہارم صفحہ 48) حضرت منشی صاحب فرماتے ہیں کہ حضور سے جالندھر کی پہلی ملاقات کے بعد دو میں دور ونزدیک یعنی فاصلہ اور خرچ کا سوال ہی نہ ہوتا تھا۔ان کی ایک ہی غرض ہوتی ماہ کے قریب گزرنے پر میں قادیان گیا۔اس کے بعد مہینے ڈیڑھ بعد اکثر جایا کرتا تھا۔تھی کہ روز واقعه پیش نگار خود باشیم (یعنی واقعہ کے روز میں اپنے محبوب کے پاس ہوں گا ) ایک دفعہ چار ماہ بعد گیا تو حضور نے فرمایا کیا کوئی معصیت ہوگئی ہے جو اتنی دیر لگائی۔میں رونے لگا اس کے بعد میں جلدی جلدی قادیان جایا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قیام کسی قدر مہیا ہو گیا اور احباب جو رخصت لے کر ہم سے ملتے رہا کرو آئے تھے یکے بعد دیگرے رخصت ہوتے چلے گئے۔یہاں تک کہ صرف منشی ظفر احمد حضرت منشی صاحب نے بیعت سے پہلے کی حضور کی ایک نصیحت کا ذکر کرتے