حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 9
15 14 ہر وقت یا قرآن کریم پڑھتے یا مسیح پاک کا منظوم اور غیر منظوم کلام پاک حضرت مسیح موعود چین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ کا ٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ان کے چہرے کا رنگ ایک دھلی ہوئی کی عبارتوں کی عبارتیں زبانی یاد تھیں۔ایک بار کسی شخص نے دوران (دعوت الی اللہ ) کہا ہم چادر کی طرح سفید پڑ گیا تھا اور بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ”احمد یہ موومنٹ میں اس نے مسیح موعود کو مانا تو خسارہ میں نہیں رہے۔اگر جھوٹے بھی ہوں تو۔۔۔۔آپ نے سنا تو اس واقعہ کا خاص طور پر ذکر بھی کیا اور لکھا کہ جس شخص نے اپنی محبت میں اس قسم کے لوگ پیدا سے سخت ناراض ہو گئے اور فرمایا تم نے یہ کیوں کہا اگر جھوٹے بھی ہوں۔۔وہ جھوٹا نہیں تھاوہ سچا تھا۔اس کے لئے اگر ہمیں دوزخ ملے تو ہم بہشت کو اس پر قربان کر دیں گے۔“ کئے ہیں اسے ہم کم از کم دھو کے باز نہیں کہہ سکتے۔“ ہاں صاحب میں فقیر ہو گیا (الفضل و ستمبر ۱۹۴۱) آقا کی جگہ پر نماز پڑھنا 66 (الفضل یکم نومبر ۱۹۱۹) حضرت منشی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں سرشار رہتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد مختلف اداؤں سے حضرت مسیح تھے اور پنشن حاصل کرنے (۱۹۱۴ء) کے بعد قادیان میں دھونی رما کر بیٹھ گئے اور اپنی موعود علیہ السلام سے محبت عشق اور عقیدت کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔حضرت شیخ محمد احمد زندگی کے بقیہ ایام آستانہ حضرت مسیح موعود کی حاضری میں ہی گزارنا چاہتے تھے۔پنشن صاحب مظہر بیان فرماتے ہیں کہ آپ کے وقت حکام حضرت منشی صاحب کی محنت، دیانت کی وجہ سے فارغ نہیں کرنا چاہتے تھے ( بیت ) مبارک میں پہلی صف کے جنوبی گوشے میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ لیکن آپ نے اصرار سے پنشن لے لی۔رخصت ہوتے وقت انگریز وزیر اعظم ریاست السلام نماز پڑھا کرتے تھے پنجوقتہ نماز با جماعت ادا کرتے اور اس بات کو برداشت نہ کر سے ملے تو اس نے کہا تم فقیر ہو گیا حضرت منشی صاحب نے کہا صاحب میں فقیر ہو گیا۔سکتے تھے کہ کوئی اور شخص اس جگہ کو روک لے۔یہ عشق و محبت تھا جو اس جگہ سے انہیں ۱۹۱۵ء میں قادیان آگئے۔فقیر نے در حبیب پر دھونی رمالی۔ایک تاریک کوٹھڑی تازیست رہا۔ایک دن منشی اروڑ ا صاحب بہشتی مقبرہ کی طرف جارہے تھے ، میں ساتھ تھا، میں رہنے لگے۔نہایت سادہ لباس گرمیوں میں کلاہ ،سردیوں میں لنگی کر تہ اور تہبند اور پرانا فرمانے لگے اللہ نے میری سب مرادیں پوری کر دیں بس ایک آرزو باقی ہے اور بہشتی مقبرہ کوٹ اور کوئی سالن خود پکاتے اور روٹی لنگر سے خریدتے ایک بار روٹی بھی خود پکانے کا کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ یہ جسد خا کی یہاں دفن ہونا باقی ہے۔“ ارادہ کیا لیکن پک نہ سکی۔چار پائی کے قریب اوپلے اور راکھ کا ڈھیر ہوتا ایسی مستانہ شان سے رہتے تھے کہ کوئی شخص جو جانتا نہ ہو و ہم بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ شخص تحصیلدار رہا ہے۔کیا خوب کہا عدم نے جو بھی تیرے فقیر ہوتے ہیں آدمی ہے نظیر ہوتے ہیں حضور سے والہانہ عشق (( رفقاء ) احمد جلد چہارم ص ۱۴ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے آپ کا والہانہ عشق تھا۔ملاقات کیلئے تڑپتے اور قادیان حاضر ہو جاتے۔حضور کے لئے تحائف لے کر جانا ، پاؤں دبانا ، راستے بدل