حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 4
5 4 قادیان میں فقیرانہ اور مستانہ شان میں رہتے تھے۔کوئی شخص جو جانتا نہ ہو وہ کبھی وہم بات تھی جو ہمارے دل میں بیٹھ گئی اور جس نے ہمیں تمام دنیا سے علیحدہ کر کے حضرت مسیح بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ شخص تحصیلدار رہا ہے۔“ (الفضل قادیان یکم نومبر ۱۹۱۹ء) موعودؓ سے پیوستہ کر دیا۔حضرت مسیح موعود سے تعارف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب سرمہ چشم آریہ ۱۸۸۶ء میں تصنیف ریاست کپورتھلہ کے گوہر نایاب اور آسمان احمدیت کے روشن ستارے حضرت منشی محمد ہوئی۔( رفقاء) کپورتھلہ حضرت منشی اروڑا خان صاحب حضرت منشی ظفر احمد صاحب، اروڑے خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی خدام میں سے حضرت منشی عبدالرحمن صاحب اور حضرت منشی محمد خان صاحب حضور کی کتاب سرمہ چشم تھے۔جنہیں حضرت مسیح موعودؓ سے تعارف اور زیارت دعوئی سے پہلے ہی ہو چکی تھا اور وہ آریہ (بیت الذکر ) میں پڑھا کرتے تھے۔اس کتاب کے پڑھنے کے بعد حضرت منشی حضرت مسیح موعود کی صداقت کا آپ کے دعوئی سے پہلے ہی اقرار کر چکے تھے اور آپ سے اروڑا خان صاحب اپنے دو دیرینہ دوستوں حضرت منشی ظفر احمد اور حضرت منشی محمد خان بیعت کی درخواست بھی کر دی ہوئی تھی۔براھین احمدیہ کے مطالعہ سے آپ کو حضرت مسیح صاحب کپورتھلوی کے ہمراہ قادیان گئے۔اس موقع پرمنشی اروڑا خان صاحب نے کہا کہ بزرگوں کے پاس خالی ہاتھ نہیں جایا کرتے۔چنانچہ تین چار روپے کی مٹھائی حضور اقدس کی موعود سے محبت پیدا ہوگئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کی پہلی ملاقات بٹالہ میں ہوئی جبکہ ابھی خدمت میں پیش کی تو حضرت نے فرمایا یہ تکلفات ہیں۔آپ ہمارے مہمان ہیں ہمیں بشیر اول زندہ تھے اور حضور ان کی بیماری کے علاج کے لئے بٹالہ میں قیام پذیر تھے۔اس آپ کی تواضع کرنی چاہئے۔اس ملاقات میں تینوں احباب نے حضور اقدس کی خدمت وقت عیسائیوں کی طرف سے اشتہار شائع ہوا تھا کہ اگر آپ ملہم ہیں اور خدا آپ سے میں بیعت لینے کے لئے درخواست کی کیونکہ سرمہ چشم آریہ پڑھ کر تینوں احباب بیعت کا باتیں کرتا ہے تو ہم ایک لفافہ میں کچھ لکھ کر رکھیں گے آپ خدا سے پوچھ کر بتادیں۔آپ ارادہ کر کے آئے تھے۔حضور نے بیعت کی درخواست پر فرمایا کہ مجھے بیعت کا حکم نہیں لیکن نے جواب دیا کہ ہاں ہمارا خدا قادر ہے کہ اپنے بندہ کو خفیہ مضمون سے اطلاع دے دے۔ہم سے ملتے رہا کرو۔اس کے بعد تینوں احباب بہت بار قادیان حضور کی خدمت میں میں دعا کرونگا اور میرا خدا انشاء اللہ مجھے بتائے گا لیکن ایک شرط ہو گی وہ یہ کہ جب ہم اس حاضر ہوتے رہے اور لدھیانہ میں بھی کئی دفعہ حضور اقدس کی خدمت میں شرف ملاقات مضمون کو بتلا دیں تو پادری صاحب کو ایمان لانا ہوگا۔پادریوں نے اس شرط کو قبول نہ کیا۔پایا۔اس موقع پر حضرت منشی اروڑا خان صاحب کا بیان ہے کہ پہلے ہم میں مذہبیت بہت بیعت اولیٰ میں شمولیت کی سعادت تھی۔ہم مولویوں کے وعظ کرایا کرتے تھے اور ان کی بڑی خدمت کیا کرتے تھے مگر یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب حضور علیہ السلام کو بیعت لینے کا حکم ملا تو حضور نے کسی مولوی یا صوفی میں نہ دیکھی تھی جو دینی اصول کی صداقت کے اثبات کے لئے اس ( رفقاء) کپورتھلہ کو بھی اشتہار بھجوائے اور لدھیانہ آنے کے لئے فرمایا۔چنانچہ حضرت منشی طرح سینہ ٹھونک کر دشمن کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو جائے کہ آؤ میں ثبوت دیتا ہوں۔یہ محمد اروڑا صاحب فوراً لدھیانہ روانہ ہو گئے۔۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو حضرت مسیح موعود علیہ