حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 3 of 21

حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 3

3 له 2 دل و جان سے وفا دار اور سچائی کے عاشق سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شاندار الفاظ میں آپ کے اخلاص، لگے اور وہاں عارضی کام مل گیا اور عدالتوں کے احکام کی اطلاع متعلقہ اشخاص کو دینے کا کام شروع کر دیا۔یہ کام کرنے والے کو ان دنوں مذکورئیے“ کا نام دیا جاتا تھا۔آپ عدالت سے احکام لیتے اور دیہاتوں میں پہنچا دیتے اس سے کچھ آمدنی کا ذریعہ پیدا ہو گیا۔محبت اور قربانی کا ذکر فرمایا ہے۔یہ خوبصورت تذکرہ حضرت منشی صاحب کی سیرت کا اس کام کے بعد آپ کو چیڑ اسی کی ملازمت عدالت میں مل گئی۔کچھ عرصہ تک اس کام خلاصہ ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: پر رہے۔پھر آپ سے خواندہ چپڑاسی کا کام لیا جانے لگا ایک عرصہ تک اس عہدہ پر کام کیا اور جسی فی اللہ نشی محمد روڈ ا نقشہ نویس مجسر، بیٹی منشی صاحب محنت اور خلوص اور ارادت پھر عدالت میں ترقی کر کے اہل مد کا عہدہ مل گیا۔اس میں بھی آپ نے نہایت تندہی سے میں زندہ دل آدمی ہیں۔سچائی کے عاشق اور سچائی کو بہت جلد سمجھ جاتے ہیں۔خدمات کو کام کیا۔افسران بالا آپ کے کام اور دیانت سے ہمیشہ متاثر اور خوش رہے اور پھر آپ ترقی نہایت نشاط سے بجالاتے ہیں بلکہ وہ تو دن رات اسی فکر میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی خدمت کر کے عدالت میں نقشہ نویس ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ازالہ مجھ سے صادر ہو جائے عجیب منشرح الصدر اور جاں نثار آدمی ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ اوہام میں جب آپ کا ذکر خیر فرمایا تو اس وقت آپ نقشہ نویس ہی تھے۔نقشہ نویس سے ان کو اس عاجز سے ایک نسبت عشق ہے۔شاید ان کو اس سے بڑھ کر اور کسی بات میں خوشی ترقی کر کے آپ سرشتہ دار ہو گئے۔اس سے ترقی کر کے آپ نائب تحصیلدار اور پھر نہیں ہوتی ہوگی کہ اپنی طاقتوں اور اپنے مال اور اپنے وجود کی ہر توفیق سے کوئی خدمت تحصیلدار کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے اور ریاست کی جانب سے خان بہادر کا خطاب بجالا ویں۔وہ دل و جان سے وفادار اور مستقیم الاحوال اور بہادر آدمی ہیں۔خدا تعالیٰ انکو ملا۔پنشن حاصل کرنے کے بعد ۱۹۱۵ ء میں مستقل طور پر قادیان سکونت اختیار کر لی۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه۵۳۲) آپ کا حلیہ مبارک جزائے خیر بخشے۔آمین ابتدائی و خاندانی حالات حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب کی وفات کے بعد آپ کے ایک عقیدت مند شہاب مالیر کوٹلوی صاحب نے آپ کا حلیہ ان الفاظ میں بیان کیا: حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب کپورتھلہ شہر کے رہنے والے تھے۔کپورتھلہ میں قد درمیانہ معمول سے کسی قدر نکلتا ہوا۔رنگت جوانی میں تو بہت گوری ہوگی لیکن ہی آپ کی پیدائش ہوئی۔حضرت منشی عبدالرحمن صاحب کپورتھلوی کے بیان کے مطابق اب بھی باوجود بڑھاپے اور اس قسم کی ( درویشانہ ) زندگی کے جوانہوں نے اختیار کی ہوئی آپ ان سے تین برس چھوٹے تھے اس کے مطابق آپ کی پیدائش انداز ۱۸۴۶ ء کے لگ تھی ، گوری تھی۔چہرہ گول اور چوڑا ،سر بڑا، کشادہ پیشانی ،آنکھیں بڑی بڑی اور نہایت بھنگ کی ہے۔آپ کے والد محترم نے آپ کو خیمے سینے اور کشیدہ کاری کے کام میں لگایا۔ابھی خوبصورت ، ناک سیدھی ، جوانی میں بڑا تن و توش تھا جس کے آثار اب تک نمایاں تھے۔آپ کی عمر چھوٹی ہی تھی کہ آپ کے والد وفات پاگئے اور تمام کنبہ کا بوجھ آپ کے کندھوں پر بہت سے دانت اکھڑ گئے تھے۔کبھی کبھی داڑھوں میں درد ہوتا تو بطور علاج وسمہ لگاتے اور آن پڑا۔چنانچہ اس کیلئے تلاش معاش کی فکر ہوئی جس کے لئے آپ عدالتوں میں جانے اس کے لئے پان بھی کھانا شروع کر دیا تھا۔