حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 2 of 21

حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 2

1 پیش لفظ اللہ تعالیٰ کے انبیاء پر ایمان لانے والوں پر اللہ تعالیٰ کے ان گنت فضائل میں سے ایک فضل یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کا ہر قدم کیا دینی لحاظ سے اور کیا دنیاوی لحاظ سے روبہ ترقی ہوتا ہے۔حضرت منشی صاحب بھی ان مؤمنین میں سے ایک زندہ مثال ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء سے محبت اور عقیدت آپ کی شخصیت کا ایک روشن پہلو ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی دنیاوی ترقی بھی ہمارے لئے ایک بہت اعلیٰ مثال ہے۔آپ نے اپنے گھر یلو حالات کی وجہ سے نہایت کم عمری میں ایک نہایت چھوٹے سے درجہ سے نوکری شروع کی اور امام وقت پر ایمان لانے کی برکت سے ترقی کرتے کرتے ”خان بہادر کا خطاب پا گئے۔خود بھی اعلیٰ درجہ کی خدمات بجا لائے اور ہمارے لئے بھی بے مثال نمونہ چھوڑ گئے۔اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو! آمین حضرت منشی محمد اروڑے خان صاحب کپور تھلوی کا شمار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر اور جان شار رفقاء میں ہوتا ہے۔آپ ان رفقاء کپورتھلہ میں شامل تھے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دلی محبت کا شرف حاصل تھا اور حضور نے ان کے بارہ میں فرمایا تھا کہ آپ اس دنیا اور آخرت میں بھی میرے ساتھ ہو نگے۔حضرت منشی صاحب اُن معدودے چند رفقاء میں سے تھے جن کو حضرت مسیح موعود کے ساتھ آپ کے دعوئی سے پہلے بھی تعارف اور عقیدت تھی۔بیعت اولی کے موقع پر بیعت کی سعادت پائی۔سفروں میں ہم رکاب رہے۔سلسلہ کی خاطر سب کچھ نچھاور کرتے رہے۔حضور کی ملاقات کے لئے تڑپتے رہتے تھے اور موقع ملتے ہی قادیان کا رخ کر لیتے تھے۔۳۱۳ رفقاء میں شامل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبولیت دعا کے زندہ نشان تھے اور در حقیقت شمع محمدی کے جاں نثار پروانے تھے جن کی زندگی کا مقصد اس شمع کے گرد گھوم کر جان دینا تھا ، انتہا درجہ محبت کرنے والے ، وفا اور اخلاص کا اظہار کرنے والے اور اپنے محبوب کی محبت میں جینے کو اپنا مذ ہب سمجھنے والے تھے۔اسی عشق حقیقی میں ساری زندگی گزار دی اور پھر اپنے محبوب آقا کے قرب میں ابدی مقام حاصل کر لیا۔