حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 12 of 18

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 12

21 20 ساڑھے تین سال سے زائد عرصہ آپ امریکہ کے گلی کوچوں میں مسیح محمدی کی آپ 18 ستمبر 1923 ء کو امریکہ سے روانہ ہو کر 4 دسمبر 1923 کو قادیان پہنچ گئے۔منادی دینے کے بعد 18 ستمبر 1923ء کو جہاز پر سوار ہوکر عازم قادیان ہوئے۔(الفضل4, 7 دسمبر 1923ء) حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک مجمع کثیر کے ساتھ سڑک کے موڑ کے قریب (الفضل 30 /اکتوبر 1923ء) اس عرصہ میں آپ نے خدا تعالیٰ کے فضل سے 700 افراد کو جماعت احمدیہ میں حضرت مفتی صاحب کا استقبال کیا۔حضرت مفتی صاحب نے حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیر تک دست بوسی کی۔اس وقت خوشی اور مسرت کے جذبات آنسوؤں کی شکل داخل کیا۔(الفضل 9 اکتوبر 1923ء) جب آپ قادیان روانگی کے لئے امریکہ سے جہاز پر بیٹھے تو امریکہ کی طرف میں آپ کی آنکھوں سے ڈھلک رہے تھے۔دیکھ کر بے اختیار آنکھیں پُر آب ہو گئیں۔اس لئے نہیں کہ آپ کو امریکہ رہنے کا امریکہ سے واپسی پر خدمات شوق تھایا جدائی تکلیف دہ تھی بلکہ آپ فرماتے ہیں: اس لئے کہ جس خدمت پر میں مامور کیا گیا تھا اس کا حق پورے طور سے مجھ سے ادا نہ ہوا۔جب قادیان جیسے دیار محبوب کو چھوڑا تو جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی 1924ء میں دورہ یورپ پر تشریف لے گئے تو آپ نے قادیان میں اپنی غیر حاضری میں مکرم مولانا شیر علی صاحب کو امیر مقامی مقررفرمایا اور ان کے ساتھ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مفتی صاحب کو امریکہ کیا چیز ہے کہ اس کا چھوڑ نا رنج دہ ہو۔مجھے تو اب ساری زمین نائب امیر مقرر فرمایا۔ایک ہی شہر دکھائی دیتی ہے اور حضرت محمود کے حکم کے ماتحت دینی خدمات کے واسطے مشرق و مغرب سب میرے لئے یکساں ہو رہا ہے۔نہ مجھے کسی ملک یا کسی شہر میں رہنے کی خواہش اور نہ کسی سے نکلنے کی (الفضل 22 جولائی 1924ء) 1926ء میں آپ ناظر امور عامہ و خارجہ کے عہدہ پر فائز رہے اور دس سال تک اس عہدہ پر متمکن رہے۔1935ء میں تحقیقات قبر مسیح کے سلسلہ میں کشمیر گئے اور جب آرزو باقی ہے۔جو حضرت امام کا حکم ہو اس کی تابعداری میں فخر ، راحت واپس آئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے آپ کو پرائیویٹ سیکرٹری کے عہدہ پر اور آرام ہے۔ہاں میں مقر ( اقراری) ہوں کہ میں حق خدمت کا بجا نہیں لا سکا۔اور اللہ تعالیٰ کی غفاری، ستاری اور غریب متعین کیا۔لیکن پیشاب کی بیماری کے باعث دوسال کے بعد ہی یعنی 1937ء میں 66 نوازی سے بخشش اور پردہ پوشی کا امیدوار ہوں۔“ (الفضل 30 اکتوبر 1923ء) آپ کو پنشن دے کر سلسلہ عالیہ کے کاموں سے فارغ کر دیا گیا۔(لطائف صادق صفحہ 125 126 )