حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 11 of 18

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 11

19 18 اس پر اس کے ماں باپ نے آپ کو اوپر بلایا اور آپ کا انٹرویو لیا۔آپ نے کی۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ انہیں امریکہ میں مخلصین کی ایک جماعت عطا فرمائے جو کہ۔انہیں بتایا کہ میں "Christ" نہیں ہوں بلکہ مسیح پاک کا ایک خادم ہوں۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہوں۔دوسرے یہ کہ دین حق کی اشاعت کیلئے انہیں انہیں دعوت الی اللہ کی اور پمفلٹ دیئے۔ایک میگزین نکالنے کی طاقت دے۔تیسرے ایک بیت الذکر کی تعمیر کے لئے دعا کی مقالہ سیرت حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 467-468) جس میں اللہ تعالی کے نام کی پرستش کی ہو۔اسی طرح مکرم صوفی عبدالغفور صاحب سابق مشنری امریکہ نے روایت بیان کی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تینوں خواہشات کو پورا کیا مخلص جماعت بھی آپ کو کہ ایک دفعہ حضرت مفتی صاحب نے بتایا کہ وہ شکاگو کے ایک بازار سے گزرر ہے عطا ہوئی۔میگزین ( مومن ) سن رائز“ شائع ہونا شروع ہو گیا۔اور دلی تمنا کے تھے کہ ایک پادری آیا اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔پادری صاحب نے آپ کو مطابق جولائی 1922ء میں آپ نے ایک دوکان خرید کر اس کو بیت الذکر میں تبدیل بلایا۔اور بتایا کہ میں دوکان پر بیٹھا تھا کہ اس لڑکے نے آپ کو دیکھ کر کہا کر دیا اور گنبد، محراب اور منبر وغیرہ بھی بنائے۔اس کے علاوہ ایک اور بیت الذکر بھی Father! Father! Jesus Christ! Jesus Christ! آپ نے ان کو بتایا کہ میں مسیح نہیں ہوں بلکہ مسیح محمدی کا ایک غلام ہوں اور آپ نے انہیں دعوت الی اللہ کی۔اسی طرح مکرم صوفی صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ حضرت مفتی صاحب بتاتے تھے کہ ایک دفعہ آپ ایک دوکان پر گئے وہاں پر چند عور تیں تھیں۔ان کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا۔اس نے آپ کو دیکھا تو اپنی ماں کو جو سوداسلف خریدنے میں مشغول تھی کھینچنا شروع کیا اور نہایت سرگوشی کے رنگ میں آہستہ آہستہ اس نے کہا کہ Mother! Mother! Jesus Christ! Jesus Christ! مقالہ سیرت حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 468) حضرت مفتی صاحب نے اللہ تعالیٰ سے امریکہ میں تین عظیم امور کے لئے دعا آپ کے دور میں بن گئی۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں: فلاڈلفیا۔یہ اس ملک میں دوسرے درجے کا شہر ہے۔تین سال ہوئے جب میں پہلے یہاں اترا تھا اور ساحل سمندر پر چھ ہفتہ روکا گیا تھا۔اس وقت کی خوا ہیں اور امیدیں آج پوری ہو رہی ہیں۔اس وقت بھی اخباروں نے میرے متعلق مضامین لکھے تھے اور اب پھر چار روزانہ اخباروں کے ایڈیٹر ملنے آئے۔اور میری تصویر کے ساتھ لمبے مضامین شائع کئے کہ تین سال میں اللہ تعالیٰ نے مجھے سات سو ( نومبائعین ) اس ملک میں عطا کئے اور ( بیت الذکر ) اور مشن ہاؤس قائم ہوا اور رسالہ جاری ہوا۔فالحمد للہ“ (الفضل 9 اکتوبر 1923ء)