حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 13 of 18

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 13

23 22 حضرت مفتی صاحب کی امریکہ سے واپسی کے بعد ایک بہت نمایاں خدمت سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بعد از نماز عصر بیت مبارک میں نماز آپ کے ہندوستان کے طول وعرض میں دعوت الی اللہ کے لیکچرز، تقاریر اور دورہ جنازہ پڑھائی۔اور آپ کے جنازہ کو کندھا دیا۔اپنے دست مبارک سے مٹی ڈالی جات ہیں۔آپ کو برصغیر کے بیسیوں شہروں میں جا کر جماعتی جلسہ ہائے سالانہ پر اور بہشتی مقبرہ میں تدفین کے بعد دعا کروائی اور اس طرح اپنے پیارے غلام اور تقاریر کا موقعہ ملا اور متعدد شہروں میں دعوت الی اللہ کے لیکچر دیئے جن میں حضرت مسیح مجاہد کو رخصت کیا۔موعود علیہ السلام کا حقیقی پیغام پہنچایا۔چونکہ آپ انگلستان و امریکہ میں 7 سال گزار کر آئے تھے۔اور آپ اپنی تقاریر میں ان ایمان افروز واقعات کا بھی ذکر کرتے تھے جو الفضل 15 جنوری 1957ء) اس عرصہ میں آپ سے پیش آئے اس لئے لوگ بڑے شوق اور ذوق کے ساتھ آپ دلچسپ اور ایمان افروز واقعات کے لیکچروں میں شمولیت فرماتے تھے۔حضرت مفتی صاحب کی زندگی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی شاندار خدمات کے طویل علاوہ ازیں حضرت مفتی صاحب کو مرکزی جلسہ ہائے سالانہ پر بھی متعدد بار زمانہ میں بڑے دلچسپ اور ایمان افروز واقعات، پرلطف مباحثات اور پرکیف تقاریر کرنے کا شرف حاصل ہوا۔وصال لطائف سے لبریز ہے۔ان دلچسپ واقعات ومباحثات میں سے طوالت کے خوف سے صرف چند ایک یہاں درج کئے جاتے ہیں جو حضرت مفتی صاحب کے آخر مسیح الزماں کا یہ محبت صادق مخلص دوست، لائق اور صالح نو جوان سلسلہ تقویٰ، قابلیت اور اعلیٰ کردار کے عظیم مجاہد ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔یہ واقعات عالیہ احمدیہ کا ایک برگزیدہ رکن، مجاہد احمدیت ، مربی دین حق ، انگلستان اور امریکہ کے لطائف صادق مرتبہ محمد اسمعیل پانی پتی اور تحدیث بالنعمۃ از حضرت مفتی محمد صادق ظلمت کدوں میں توحید کی شمعیں روشن کرنے والا عظیم وجود تقریباً 85 برس کی عمر پا کر صاحب سے لئے گئے ہیں۔مورخہ 13 جنوری 1957ء بروز اتوار صبح چھ بج کر 35 منٹ پر ربوہ میں اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملا۔اور اہل دنیا کو ہمیشہ ہمیش کے لئے داغ مفارقت دے گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ے راضی ہیں ہم اُسی میں جس میں تری رضا ہو خدائی تصرف ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت مفتی صاحب نے لا ہور کی پنجاب پبلک لائبریری میں ایک کتاب دیکھی جس میں یوز آسف کے نام پر ایک گرجا کا حوالہ دیا گیا تھا۔مفتی