حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 279 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 279

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 279 کریں گے میں اس بات کے سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہ کون سا تجربہ مذہب عیسویت ہو سکتا ہے جس کو آپ مذہب عیسوی کی صداقت کے ثبوت میں دلیل کے طور پیش کر سکتے ہیں اگر اس تجربہ سے آپ کی مراد علمی تحقیقات اور ایجاداور ملکی قوت کی ترقی ہے تو یونان کے بت پرست اور روما کے ہزاروں دیوتاؤں کے پجاری ان علمی اور ملکی ترقیوں کے باعث اپنے زمانے کے یہود اور نصاریٰ کے مقابلہ میں زیادہ تر سچے مذہب کے پیر و معلوم ہوتے ہیں اور اگر تجربہ سے آپ کی مراد یہ ہے کہ یورپ کے عیسائیوں نے تجارت اور دوسرے ذرائع سے بہت روپیہ جمع کر لیا ہے اور یہ اُن کے مذہب کی صداقت کا ایک نشان ہے تو پھر عیسائیت کے معتقدین سید ھے جہنم کو جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اگر موجودہ تہذیب مذہب عیسوی کی صداقت کا ثبوت ہے تو پھر پہلے حواری اور خود آپ کا خداوند یسوع مذہب عیسوی کا ایک بڑا دشمن نظر آتا ہے۔اگر عیسائی تجربہ سے آپ کا یہ منشاء ہے کہ عیسائیوں میں اعلیٰ درجے کی اخلاقی اور تمدنی خوبیاں پائی جاتی ہیں اور یہ اُن کے مذہب کی صداقت کا ایک نشان ہے تو یورپ کے موجودہ اخلاق کے متعلق جو سینکڑوں شہادتیں خود اہلِ یورپ سے ہمیں ملی ہیں اُن میں سے صرف دو تین کو میں یہاں نقل کر کے دکھاتا ہوں کہ عیسائی تجربہ کیا شہادت دیتا ہے۔نمبر 1۔ایسی مفلسی ، ایسی تباہی ، ایسی مصیبت ، ایسی جہالت اس جگہ پائی جاتی ہے کہ یہ مقام مجھے ایک آتش فشاں پہاڑ کی چوٹی پر نظر آ رہا ہے۔نمبر 2۔تمام عیسائی دنیا قدیم الایام سے آج تک مفلسی تباہی بدی اور پرلے درجے کی گناہ گاری میں پڑی ہوئی ہے۔نمبر 3 لکھوکھا آدمی جو بپتسمہ لے چکے ہیں نہایت ہی خراب قسم کی بدکاری میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔