حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 166 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 166

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 166 قدرت کے عجیب نظارے تھے۔دل حمد سے بھر گیا۔جہاز آگے بڑھتا رہا قادیان سے فاصلوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ایک مکتوب میں تحریر کیا: ”مبارک ہے تو قادیان کی بستی اور مبارک ہیں تجھ میں رہنے والے کہ آج روئے زمین پر کسی کو وہ درد اور محبت سے بھرا ہوا دل نہیں دیا گیا جو تجھے عطا ہوا ہے۔تو میرے محبوب کے بسنے کی جاہے تو خدا کے مسیح کے نزول کا مقام ہے۔تیرا آسمان نیا تیری زمین نرالی ہے میں تجھ میں اس واسطے داخل نہ ہوا تھا کہ کبھی نکلوں مگر میرا داخل ہونا اور باہر آنا دونوں تیری آبادی کی خاطر ہیں خدا کی رحمتوں کی بارش ہمیشہ تجھ پر ہو اور تجھ سے پیار کرنے والوں پر ہو۔“ اہل قادیان کی دُعائیں ہمرکاب تھیں : ( فاروق 19 را پریل 1917 ء) آپ کے بیڑے کا حافظ ہو خدائے کن فکاں فضل کے جھونکے بنیں کشتی کے اوپر بادباں کیا مبارک ہے وہ ، محبوب خدا ہو گا رواں یا الهی از طفیل حضرت احمد رسول مفتی صاحب کو بنانا کامیاب و کامراں ( کلام منشی قاسم علی خان صاحب) حضرت مفتی صاحب اپنے سفر کے دوران قبولیت دُعا کا ایک عجیب ایمان افروز واقعہ تحریر فرماتے ہیں: ”جب ہمارا جہاز بحیرہ روم میں داخل ہوا تو جہاز کے کپتان نے جہاز کے تمام مسافروں کو اوپرڈیک پر بلایا اور تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندر جس میں ہم داخل ہوئے ہیں جرمن جہازوں سے بھرا پڑا ہے اور معلوم نہیں کہ کب ہمارا جہاز اُن کے نشانے سے ڈوب جائے۔اگر ایسا ہوا تو جہاز ڈوبنے سے پہلے ایک سیٹی بجے گی۔جب