حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 47 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 47

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 47 حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں نب، لفافے ، کاغذ اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کلک کے قلم سے لکھا کرتے تھے اور ایک وقت میں چار چار پانچ پانچ قلمیں بنوا کر اپنے پاس رکھتے تھے تا کہ جب ایک قلم گھس جاوے تو دوسری کا انتظار نہ کرنا پڑے کیونکہ اس طرح روانی میں فرق آتا ہے۔لیکن ایک دفعہ جبکہ عید کا موقع تھا، میں نے حضور کی خدمت میں بطور تحفہ دو ٹیڑھی نہیں پیش کیں۔اس وقت تو حضور نے خاموشی سے رکھ لیں۔لیکن جب میں لاہور واپس گیا تو دو تین دن کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام کا خط آیا کہ آپ کی وہ نہیں بہت اچھی ہیں اور اب میں اُن ہی سے لکھا کروں گا۔آپ ایک ڈبیہ ویسی نبوں کی بھجوا دیں۔چنانچہ میں نے ایک ڈبیہ بھجوا دی اور اس کے بعد اس قسم کی نہیں حضور کی خدمت میں پیش کرتا رہا۔لیکن جیسا کہ ولایتی چیزوں کا قاعدہ ہوتا ہے کچھ عرصے کے بعد مال میں کچھ نقص پیدا ہو گیا اور حضرت صاحب نے مجھ سے ذکر فرمایا کہ اب یہ نب اچھا نہیں لکھتا۔جس پر مجھے آئندہ کے لئے اس ثواب سے محروم ہو جانے کا فکر دامن گیر ہوا اور میں نے کارخانے کے مالک کو ولایت میں خط لکھا کہ میں اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تمہارے کارخانہ کی نہیں پیش کیا کرتا تھا۔لیکن اب تمہارا مال خراب آنے لگا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ حضرت صاحب اس نب کے استعمال کو چھوڑ دیں گے اور اس طرح تمہاری وجہ سے میں اس ثواب سے محروم ہو جاؤں گا اور اس خط میں میں نے یہ بھی لکھا کہ تم جانتے ہو کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کون ہیں؟ اور پھر میں نے حضور کے دعوی وغیرہ کا ذکر کر کے اس کو اچھی طرح تبلیغ بھی کر دی۔کچھ عرصے کے بعد اس کا جواب آیا جس میں اُس نے معذرت کی اور ٹیڑھی نبوں کی ایک اعلیٰ قسم کی ڈبیہ مفت ارسال کی جو میں نے حضرت کے حضور کو پیش کر دی۔اور اپنے خط اور اس کے جواب کا ذکر کیا حضور یہ ٹن کر مسکرائے۔مگر مولوی عبد الکریم صاحب جو اس وقت حاضر تھے ہنستے ہوئے فرمانے لگے کہ جس طرح شاعر اپنے شعروں میں ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف گریز کرتا ہے اسی طرح آپ نے