حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 36
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ قادیان کی آمد ورفت ہو جاتی۔(ذکر حبیب ص 331) آپ کی آمد حضرت اقدس علیہ السلام کی خوشیوں میں اضافہ کر دیتی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ یوں تو حضرت صاحب اپنے سارے خدام سے ہی محبت رکھتے ہیں لیکن میں محسوس کرتا تھا کہ آپ کو مفتی صاحب سے خاص محبت ہے۔جب کبھی آپ مفتی صاحب کا ذکر فرماتے تو فرماتے ہمارے مفتی صاحب۔اور جب کبھی مفتی صاحب لاہور سے قادیان آیا کرتے تو حضرت صاحب ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔۔۔66 (سیرۃ المہدی روایت نمبر 298) 36 حضرت اقدس علیہ السلام کا اپنے ایک مرید سے حسن سلوک قابل رشک تھا۔انتہائی لطف وکرم سے خوش نصیب مفتی صاحب کو سر شار کر دیتے جس سے اس محب صادق کے والہانہ پن میں ہر لحظہ اضافہ ہوتا۔حضرت مولوی فضل الہی بھیر وی بیان کرتے ہیں : ” جب بندہ لاہور اور نینٹل کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو حضرت مفتی صاحب کے ساتھ رہتا تھا۔حضرت مفتی صاحب موصوف قریباً ہر ہفتہ کی شام کو لاہور سے روانہ ہو کر رات بارہ بجے کے قریب سٹیشن بٹالہ پر اتر کر پیدل چل کر نماز تہجد کے وقت قادیان دار الامان پہنچ جایا کرتے تھے تمام دن حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں گزار کر عصر کے بعد قادیان سے روانہ ہوتے اور اُس وقت حضرت مفتی صاحب نے بتلایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام میرے قادیان سے جانے کا یکہ کا کرایہ خود ادا فرماتے اس کی وجہ یہ بتلائی کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس قسم کا اخلاص آپ مجھ سے بوجہ مسیح موعود ہونے کے رکھتے ہیں اس اخلاص میں شریک ہو کر یہ ثواب حاصل کرنے کی خاطر ہم بھی آپ کے سفر خرچ میں کچھ حصہ ڈال دیتے ہیں۔اسی طرح ایک