حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 31
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ سمجھتا ہوں جس وقت کہ آپ نے سنائی تھی۔الغرض کچھ ہی ہو حضور مجھے اپنا غلام اور اپنی جوتیوں کا خادم سمجھیں اور دُعا میں یا درکھیں۔“ محمد صادق مفتی مدرس انگریزی جموں 31 (ذکر حبیب صفحہ 13 ,12 ) جب پیشگوئی شان سے پوری ہوگئی تو مفتی صاحب نے ایک معاند پادری ٹامس ہاؤل کو ایک مکتوب لکھا جس کی نقل حضرت مولانا نور الدین صاحب کو بھجوائی۔آپ نے یہ مکتوب حضرت اقدس : مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دیا جس پر آپ نے اظہار پسندیدگی فرمایا۔آپ کے الفاظ مبارک تھے : اللہ ہی لکھواتا ہے (ذکر حبیب صفحہ 11) یہ الفاظ ایسے مقبول ہوئے کہ مولا کریم نے مفتی صاحب کے نصیب میں قلم کا جہاد لکھ دیا اور ساری عمر خوب خوب لکھوایا۔یہ عظیم حوصلہ افزائی ایک رنگ میں مستقبل کے لئے پیشگوئی ثابت ہوئی۔خدمت دین کے لئے تربیت میں حضرت حکیم نورالدین صاحب کا بڑا ہاتھ تھا۔وہ اپنے شاگرد کی سعادت اور قابلیت کو پہچان چکے تھے اور چاہتے تھے کہ ساری لیاقت جماعت کی خدمت میں صرف ہو۔آپ کی اپنے ہونہار شاگرد کی تعلیم وتربیت میں دلچسپی کا اظہار ایک بے حد قیمتی مکتوب سے ہوتا ہے جو آپ نے مفتی صاحب کو 6 دسمبر 1893ء کو تحریر فرمایا۔ملاحظہ فرمائیے: پیارے بچہ ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته دنیا روزے چند کار با خداوند۔دوسرے سیپارے میں لیس البران تولوا وجوهکم سے دوسرا پاؤ شروع ہوتا ہے اس کو پڑھو۔اس میں متقی کی صفتیں مندرج ہیں اور ادھر الحد کا پہلا رکوع دیکھو اس میں ھدی للمتقین آیا ہے۔پھر بدوں تقویٰ ہدایت ہی نہیں۔۔۔۔تمہیں سیالکوٹ بلا تا مگر وہاں رہنے کا ارادہ نہ تھا۔گلگت کے لئے