حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 278 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 278

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 278 اُن کے گھر جا کر ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے اور میں نے کئی بار دیکھا کہ آپ دُعا اور آمین کے درمیان ذرا دیر کے لئے خاموش ہو جاتے مجھے لگتا کہ وہ بیمار پر دُعا پڑھ کر پھونک مارتے تھے۔وہ ہماری تربیت کے لئے ایسے واقعات بھی سنا دیتے جن سے اُن پر ہنسنے کا موقع ملتا مگر وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ہمیں بتایا کہ ایک دفعہ ایک عرب دوست نے آپ کی دعوت کی۔کھانے کے بعد جب آپ نے جزاک اللہ کہا تو وہ بُرا مان گئے۔کہنے گئے جزاک اللہ کہہ کر آپ نے میری بے عزتی کی ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء کہا کریں۔دوسرا واقعہ لندن کا تھا۔شدید سردی کے موسم میں آپ ایک ہوٹل میں گئے۔گرم چائے منگوائی اور اپنے قادیان کے سادہ سٹائل میں سٹرپ سٹرپ کر کے پینے لگے۔چائے کا کپ ختم ہونے تک ہوٹل سے آدھے لوگ اُٹھ کر چلے گئے۔بل آیا تو توقع سے بہت بڑا تھا ویٹر سے پوچھا کہ ایک کپ کا اتنا بڑا بل؟ تو اُس نے بتایا کہ آپ کے چائے پینے کے انداز سے بیزار ہو کر لوگ بغیر بل دئے چلے گئے ہیں اُن کا بل بھی آپ کے بل میں ڈالا گیا ہے۔یہ واقعہ سنانے کے بعد آپ نے بتایا کہ ہر ملک کے آداب مختلف ہوتے ہیں کھانے پینے، ملنے جلنے میں طور طریق کا لحاظ رکھنا چاہیے۔تربیت کا یہ انداز بھلا تھا کہ بات دل میں اُتر گئی۔اللہ تعالیٰ میرے پیارے نانا جان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اُن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (خلاصہ وتر جمہ از انحل 1996 والیوم 7 نمبر 3) آمین نمونه تبلیغی خطوط ڈاکٹر چارلس امریکہ سے لاہور آ کر عیسویت کی تبلیغ کر رہے تھے۔حضرت مفتی صاحب نے اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے انہیں ایک مفصل مکتوب تحریر فرمایا۔آپ کے انداز اور استدلال کی عمدگی ملاحظہ کیجئے: میں نے ایک اخبار میں پڑھا ہے کہ آپ امریکہ سے خاص اس مقصد کے لئے تشریف لائے ہیں کہ اس ملک کے باشندوں کو تجربہ مذہب عیسویت پر چند وعظ