حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 269
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 269 علیہ السلام کے بعد حضرت خلیفہ امتع اول اور پھر حضرت خلیفہ لمسیح الثانی سے زمانے میں آپ کے حسن عقیدت و اطاعت کا کیا حال تھا۔اسی یاد میں درج ذیل نظم ہوئی: جان ہے تن میں مگر پھر تنِ بے جاں ہوں میں نئے انداز کا مید جوش غم نرغہ امراض فراق رفقاء غم ہجراں ہوں میں میں اک مجموعہ حالات پریشاں ہوں صبح و شام اب وہ کہاں مجلس یاران قدیم دل تڑپتا ہے کہ جی کھول کے گریاں ہوں میں روز ہوتا تھا کبھی صحبت احباب سے شاد مگر اب نوحہ گر فرقت یاراں ہوں میں کیسے کیسے مرے غم خوار چھٹے ہیں مجھ سے عہد اول که وائے تقدیر کہ وقف غم ہجراں ہوں میں وہ احباب کرام آج کہاں جن کا مشتاق بصد حسرت و حرماں ہوں میں جن کی ہر طرز سے ہوتی تھی نئی شان عیاں جن کی ہر شان یہ کہتی تھی کہ تاباں ہوں میں دیکھتے دیکھتے ہر ایک نے لی راہ عدم داغ پر داغ وہ کھایا ہے کہ لرزاں ہوں میں حیف اُن میں سے جو باقی تھے وہ دو بھی نہ رہے حیف صد حیف که پس ماندہ یاراں ہوں میں