حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 242 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 242

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 242 حضرت مفتی صاحب کی دو تقریریں ہوئیں۔ایک سبجیکٹ کمیٹی میں اور دوسری کھلے اجلاس میں ہوئی۔مسئلہ کا وکشی پر آپ نے فرمایا: حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے سب سے پہلے اس بات کو ہندوؤں کے سامنے پیش کیا تھا کہ اگر ہندو اس وجہ سے ناراض ہیں کہ مسلمان گائے کا گوشت کھاتے ہیں تو ہم ان کی خاطر ایک جائز اور حلال چیز چھوڑنے کو تیار ہیں بشرطیکہ وہ بھی ہماری خاطر ایک چھوٹی قربانی کریں اور وہ یہ ہے کہ پاکوں کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا سچا نبی مان لیں اور آپ کے خلاف بدزبانی سے باز آجائیں۔“ مسلمان زعماء نے نہ صرف اس بات سے اتفاق کیا بلکہ حضرت خلیفتہ المسیح کی سیاسی بصیرت کو سراہا۔(خلاصہ افضل 11 جنوری 1929 میں 1) اس موقع پر جناح لیگ اور شفیع لیگ کے الحاق کی کوشش اور کامیابی بھی جماعت احمدیہ کے حصے میں آئی۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی نگاہ میں جناب محمد علی جناح کی سیاسی خدمات کی بہت قدر و منزلت تھی اس لئے آپ کی خواہش تھی کہ مسلم لیگ متحدر ہے۔مارچ 1929ء میں جب جناب محمدعلی جناح اور سر محمد شفیع کی ملاقات ہوئی تو جماعت احمدیہ کے نمائندہ کی حیثیت سے مفتی صاحب ( ناظر امور خارجہ بھی موجود تھے۔دونوں لیڈر باہمی گفت و شنید کے بعد اتحاد پر آمادہ ہو گئے۔3029,28 مارچ کا اجلاس مسلم لیگ دہلی میں قرار پایا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں بھی دعوت نامہ بھیجا گیا۔حضور خود مجلس مشاورت کی وجہ سے تشریف نہ لے جا سکے۔اپنے نمائندہ کے طور پر حضرت مفتی صاحب کو بھیجا۔مسلم لیگ کے اجلاس میں سبجیکٹ کمیٹی کے سامنے جناح صاحب کا تیار کردہ جو مسودہ پیش کیا گیا اس میں نہرورپورٹ رڈ کر دی گئی تھی۔اس کی حضرت مفتی صاحب نے تائید کی۔اجلاس بغیر کسی فیصلہ کے ختم ہو گیا مگر مفتی صاحب نے اپنی کوشش برابر جاری رکھی جو بالآخر بار آور ثابت ہوئی۔چنانچہ 28 فروری 1930ء کے اجلاس میں مسٹر جناح