حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 226
حضرت مفتی محمد صادق عنی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ہم سب لوگ سجدہ میں جھک جائیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علی ئیسلام کو دیکھا ہے کہ جب کوئی خوشی کی بات ہوتی تو آپ عالی شام سجدہ کرتے۔میں بھی اس وقت سجدہ کرتا ہوں آپ لوگ بھی سجدہ میں جھک جائیں۔“ خلاصه از الفضل 4 دسمبر 1923 ء ص 1,2) 226 آپ قادیان پہنچے تو لمبا سیاہ کوٹ پہنا ہوا تھا۔سبز عمامہ تھا اس طرح آپ نے جاتے ہوئے جو اقرار کیا تھا کہ کسی ملک کی رسموں کی تقلید نہیں کریں گے اُس پر پورے اترے۔اس لباس نے آپ کو کہیں بھی تکلیف نہ دی۔اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال رہی۔آپ قادیان واپس تشریف لائے تو صحت اچھی تھی ، داڑھی بالکل سفید، چہرہ پر نورانیت اور رونق تھی۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا: ”میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ میں مغربی ممالک میں تبلیغ کر سکوں گا۔میں ایسا ضعیف البنیان انسان ہوں ، سمجھا کرتا تھا کہ مغربی ممالک میں ایک ہفتہ کے لئے بھی زندہ نہ رہ سکوں گا مگر میری صحت قائم رہی۔میں نے لمبے لمبے سفر کئے ، تنگ کوٹھڑیوں میں دن گزارے۔میرے قتل کے منصوبے کئے گئے جو نا کام رہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے ہر اعتبار سے کامیابی بخشی مگر یہ معجز محمود کا معجزہ ہے۔“ (الفضل 22 جولائی 1922ء) 4 رونمبر کو مدرسہ تعلیم الاسلام اور 5 دسمبر کو مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے استقبالیہ پارٹی دی۔حضرت خلیفہ اسیح بھی شامل ہوئے۔ہر جگہ احباب آپ سے حالات سنتے۔10 اپریل 1924ء کو لجنہ اماءاللہ نے پارٹی دی اور ایڈریس خوبصورت فریم میں لگوا کر پیش کیا۔فتوحات نمایاں اللہ تعالیٰ کے مسیح کی فوج کے تنہا سپاہی نے صرف تین سال میں جو فتوحات نمایاں حاصل کیں