حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 21 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 21

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 21 سپردم بتو مایه خویش را آپ نے فرمایا : اللہ کے سپرد۔اللہ کے سپرد۔اس زمانے میں آپ کی نشست گاہ اور مطب دونوں شیخ فتح محمد صاحب کے مکان پر تھے جس میں مختصر سے دو کمرے اور سامنے ایک لمبا پلیٹ فارم تھا اور زنانہ مکان تھوڑے فاصلے پر محلہ کے اندر ایک مسجد کے پاس تھا۔آپ اُن دنوں ایک سخت بیماری سے شفا یاب ہوئے تھے اور کمزوری کے آثار نظر آ رہے تھے۔چہرہ بھی زردی مائل تھا اس بیماری کے دوران قادیان سے آپ کے محبوب دوست حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام بیمار پرسی کے لئے تشریف لائے تھے اور تین دن وہاں قیام فرمایا تھا۔اپنے جموں پہنچنے سے پہلے حضرت صاحب نے آپ کو اطلاع دی کہ مجھے بشارت دی گئی ہے کہ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے آپ کو آرام ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔مفتی صاحب نے یہ ذکر کئی بار سنا۔اللہ تعالیٰ سے اس قدر قریبی اور زندہ تعلق کی باتیں سن کر بہت متعجب اور متاثر ہوئے۔حضرت حکیم صاحب کے اُس اللہ والے دوست کو دیکھا نہیں تھا مگر ایک اُنسیت اور حسن ظن پیدا ہو گیا۔باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار ( در ثمین) آپ اس غیر معمولی نعمت کے حصول پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ اس کا فضل اور احسان ہے کہ چھوٹی ہی عمر میں مجھے حضرت مولوی نور الدین اعظم جیسے باخدا انسان کی صحبت کا موقع ملا۔جموں اور کشمیر میں کئی ماہ آپ کی خدمت میں سفر اور حضر میں رہ کر مجھے آپ کی پاک زندگی کے دیکھنے اور اس کے طرز کو اختیار کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ہنوز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے نہ دیکھا تھا کہ آپ کی آمد کی