حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 191 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 191

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 191 رسول اللہ کی صدا گونجے گی اور ضرور گونجے گی“ (الفضل 15 اپریل 1920 ء ص 12) حضرت مولانا شیر علی صاحب نے ایک مضمون لکھا جس میں آپ نے امریکہ کے آزادی ضمیر ، انصاف و عدل اور برابری کے تصور اور اُن کے عمل میں تضاد پر زوردار بحث کی۔نیز لکھا کہ اگر حضرت مفتی صاحب کو امریکہ میں تعلیم دین کا حق نہیں دیا گیا تو امریکیوں کو ہندوستان میں کیوں یہ حق دیا جائے۔دینِ حق تو دنیا میں پھیلنے کے لئے ہے اور ضرور پھیلے گا۔اُسے کسی امریکی کی مدد کی ضرورت نہیں۔اللہ قومی وقادر اسے پھیلائے گا۔(خلاصہ از ریویو آف ریلیجنز ا پریل مئی 1920 ء) زحمت میں رحمت اللہ قادر و توانا کی قدرت کے نظارے اپنے پیاروں کے ساتھ تائید و نصرت بن کر رہتے ہیں۔ساحل پر ایک ہندوستانی مشنری کو روکا گیا یہ واقعہ اخبار والوں کے لئے رپورٹنگ کا اچھا موضوع بنا۔ایک نو وارد کو تو ابھی علم اور تجربہ بھی نہیں تھا کہ تشہیر کی کون سی صورت سے کام نکلنے کے سامان ہوں گے اور اگر ہوتا بھی تو زر کثیر صرف کرنے سے ہوتا۔اخبار گھر گھر جاتے اور احمدیت کا تعارف کرواتے اور ساتھ ہی ایک احمدی کی آمد کے اغراض و مقاصد بھی بتاتے۔اُس وقت درج ذیل اخبارات نے یہ خبریں دیں: The Philadelphia Record, Public Record, North Americian Buletin Evening Buletin, The Press, Public Ledger۔ایک نمونہ ملاحظہ کیجئے۔The Press نے طویل خبر دی:۔جیسا کہ امریکہ کے مختلف مذہبی فرقے اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے ہزاروں لاکھوں روپیہ ہر سال خرچ کرتے ہیں اور دنیا کے دور دراز ملکوں اور خطوں میں اپنے فلاسفر اور پادری مسیح کے مذہب کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔تبت کے وحشت ناک جنگلوں میں ، عرب اور ہندوستان کے گرم ریگستانوں میں اور افریقہ اور چین کے غیر آباد اور دشوار گزار راستوں میں پادریوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔اسی طرح مفتی