حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 159 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 159

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 159 صوفیاء “ تھا۔اس دورے میں دونوں احباب نے نواحی ریاستوں کے بھی دورے کئے تحفۃ الملوک کثرت سے تقسیم کی۔اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ عمال حکومت تک پیغام پہنچانے کی توفیق دی۔میمن خاندان سے تعلق رکھنے والے دلّی کے مشہور سیٹھ حاجی کریم میاں صاحب کے پوتے داؤد احمد میمن نے احمدیت قبول کی۔حیدر آباد سے واپسی پر آپ نے سب احباب جماعت کا خاص طور پرسید بشارت احمد چوک رسیاں حیدر آباد کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔واپسی پر 19 جون کو اورنگ آباد میں طویل تقریر کرنے کا موقع مل گیا جس میں آپ نے صداقت مسیح موعود کے دلائل بیان فرمائے۔جب آپ دورانِ سفر بمبئی پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایک جگہ مسلمانوں اور عیسائیوں کا مباحثہ ہو رہا ہے۔مباحثہ بر لب سڑک تھا کثرت سے لوگ کھڑے ہو کرشن رہے تھے۔آپ بھی کچھ عرصہ تو خاموش سنتے رہے پھر اجازت لے کر نہایت جوش سے بائبل کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت بیان فرمائی۔24 جون کو پھر آپ کو ایک جلسہ میں جہاں مسلم، ہندو، پارسی، عیسائی، یہودی سب موجود تھے مسیح کی آمد ثانی پر خطاب کا موقع ملا۔جلسہ میں موجود یہودیوں اور پارسیوں نے آپ کی وسیع معلومات پر حیرت کا اظہار کیا۔سوال جواب کے سلسلہ کے بعد آپ نے فرمایا: تم نے ایک مسیح کو نہ مانا تکفیر کی حتی کہ وہ ہجرت کر کے ہندوستان کشمیر آ گیا اور تمھاری بد قسمتی پر مہر ہوئی اب دوسرے مسیح کو تو مانو اور ان برکات سماوی کے وارث بنو جو مومنوں کے لئے مقدر ہوتی ہے۔اس مسیح کے جھنڈے تلے آ جاؤ تا بخشے جاؤ اور سابقہ گناہوں کا کفارہ ہو۔“ یکم جولائی کو آپ بخیریت قادیان واپس پہنچ گئے۔(الفضل 4 جولائی 1915ء) 15 راگست کو ایک شادی کے سلسلے میں ظفر وال تشریف لے گئے۔ریل گاڑی میں اور شادی