حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 157 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 157

157 حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ اس جگہ میں اس امر کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے بعض دوستوں نے دعوت الی اللہ کے معاملہ میں کامیابی کے معنے غلط سمجھ رکھے ہیں۔ان کا خیال یہ ہے کہ جب ہم کہیں جائیں اور غیر احمدی لوگ کثرت سے ہمارے استقبال کو آویں اور ہمارے لیکچر سننے کے واسطے ہزار ہا جمع ہوں اور ہماری باتوں کو سن کر واہ واہ کریں اور تالی بجائیں اور ہمارے گلے میں پھولوں کے ہار پہنا ئیں تو ہم کامیاب ہو گئے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہم نا کام ہو گئے۔میرے خیال میں بے شک یہ ایک کامیابی ہے اور بہت بڑی کامیابی ہے بشرطیکہ ہمارا مقصد صرف یہ ہو کہ بہر حال لوگ ہم سے خوش ہو جائیں اور ہم بھرے جلسوں میں پھولوں کے ہار پہنائے جائیں۔جو چیز کسی شخص کو مد نظر ہو اس کا حصول اس کے لئے کامیابی ہے۔جو بات کہ سامعین پہلے سے جانے ہوئے ہوں اس کے مزید دلائل ان کو سنا کر خوش کر لینا کوئی مشکل بات نہیں۔اہل اسلام میں کھڑے ہو کر حضرت مسیح کی تعریف کے گیت گا کر چیرز لے لینا یا مندر میں جا کر کرشن مہاراج کی خوبیاں بیان کر کے اہل ہند سے واہ واہ کہلانا ایک آسان کام ہے اور ہر ایک شخص جو تقریر کرنے کی کچھ قوت رکھتا ہو ایسا کام کر سکتا ہے۔لیکن اس شخص کے واسطے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو کر آیا ہے اور لوگوں کو ان کی غلطیوں پر آگاہ کرنے کا کام اس کے سپر دکیا گیا ہے بہت سی مشکلات کا سامنا اور اس کے ساتھیوں کے واسطے جو دل استوار کر کے پبلک کو حق پہنچانا چاہتا ہے بڑی کٹھن منزلیں ہیں ایسے لوگوں کی۔کامیابی اس امر میں نہیں کہ لوگ ان پر خوش ہوں بلکہ ان کی کامیابی صرف اس بات میں ہے کہ وہ مخلوقات کو حق کا پیغام پہنچا دیں۔اگر انہوں نے اس منشاء کو پورا کر لیا تو وہ کامیاب ہو گئے خواہ سننے والوں نے اُسے قبول کیا یا سن کر پتھر پھینکے۔اس کی کامیابی میں شک نہیں اور اگر کسی خوف یا طمع یا بزدلی