حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 147
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ ”اے ہشیار پور! تیری گلیاں مجھے پیاری ہیں کیونکہ میرا پیارا مرشد میرا ہادی تیری گلیوں میں پھر چکا ہے۔اس نے اپنی ایک خاص عبادت کا چلہ تیرے اندر گزارا اور اسی میں دین حق کی تائید میں آریوں سے مباحثہ کیا اور سرمہ چشم آریہ کی کتاب مرلی دھر کے جواب میں لکھی۔اے ہشیار پور! تو نے وہ زمانہ بھی دیکھا جب کہ وہ خدا کا پیارا عاشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلا اس شہر میں آیا کرتا تھا اور اکیلا پھرا کرتا تھا۔مرلی دھر نے اس کا مقابلہ کیا سواس کی مربی اسی دن ٹوٹ گئی۔پر اُٹھ اے ہشیار پور! اور چاروں طرف دنیا میں نگاہ کر کے دیکھ کہ آج کہاں تک اور زمین کے کن کن گوشوں تک اس حامی دین کی تعریف میں مرلیاں بج رہی ہیں۔سواے ہوشیار پور! تو جاگ۔آسمان کی آواز پر لبیک کہہ تا کہ تیری برکات زیادہ ہوں۔اپنے خدا کو راضی کرلے۔منادی کرنے والے کی منادی پر کان رکھ ہاں اس فقیر کی صدا تیرے بسنے والوں کے لئے ، نہ صرف ان کے لئے جو اہل اسلام کہلاتے ہیں بلکہ ان کے لئے جو سناتنی ہندو ہیں۔۔۔پھر اے ہشیار پور تجھ میں کوئی مسیحی ہے تو وہ بھی سن لے کہ مسیح مسیح کہنے سے کچھ فائدہ نہیں۔۔،، ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھے تو سمجھائے گا خدا 147 ( بدر 27 نومبر 1913ء) 25, 26 اکتوبر 1913ء گوجرانوالہ میں اسلام اور عیسائیت کے عنوان سے لیکچر دیا۔جماعت احمدیہ لکھنو کا سالانہ جلسہ ( بدر 30 اکتوبر 1913 ) 2 تا12 نومبر 1913ء کے تبلیغی دورے کے دوران عید الفطر آئی۔قادیان سے باہر عید کرنے