حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 123 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 123

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ عالی سلام اس مضمون کے لکھنے میں مصروف ہوئے اور رات دن اسی کام میں لگے رہتے۔شام کی سیر بھی ترک کی ہوئی تھی کئی روز تک متواتر کام کرتے رہے۔آخری دن جس دن مضمون ختم ہوا تو فرمایا آج ہم نے اپنا کام ختم کیا۔اس شام کو سیر کے واسطے بھی تشریف لے گئے مگر طبیعت پر اس محنت کی کوفت کا اثر نمایاں تھا۔عصر کی نماز میں ایک ملاں نے مباحثہ کا رنگ اختیار کیا اس کو آپ علیہ السلام بہت سمجھاتے رہے جب اس نے بہت ضد کی تو بالآخر فر مایا کہ ہم تو اپنا کام پورا کر چکے ہیں۔اب تم جاؤ جو تمہارا جی چاہے کرتے پھر واسی رات کو عشاء کے قریب آپ پر وہی دوران سر اور ہاتھ پاؤں سرد ہونے کا دورہ پڑا۔اور اسہال ہوا۔پہلے اس کو اکثر نے معمولی سمجھا اور علاج معالجہ ہوتا رہا۔مگر طبیعت ساعت بساعت زیادہ خراب ہوتی گئی۔فجر کی نماز کے وقت میں پاؤں دبا رہا تھا۔صاحبزادہ محمود احمد صاحب سرہانے بیٹھے تھے تب آپ علیہ سلام نے آہستگی سے فرمایا نماز صاحبزادہ صاحب نے خیال کیا کہ مجھے نماز پڑھنے کے واسطے فرماتے ہیں۔انہوں نے عرض کی کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے۔آپ علا السلام نے پھر فرمایا' نماز اور دونوں ہاتھوں کو سینے پر رکھا تب ہم نے جانا خود نماز پڑھتے ہیں اس کے بعد جلد آپ علیسلام کو بے ہوشی ہوئی اور اپنے خدا سے جاملے اس دنیا میں آپ عالی شام کا آخری کام بھی خدا کی ا عبادت ہی تھا۔میں آپ علیہ اسلام کے قدموں میں حاضر تھا۔“ ( بدر 11 دسمبر 1913ء) روحانیت کا آفتاب دنیا میں چمکا بے حجاب وہ حسن جس کے سامنے سارے حسیں تھے آب آب آئی اجل اتنی شتاب گویا کہ اک دیکھا تھا خواب ہم کو بھلا تھی کیا خبر ہیں وہ کھڑے پادر رکاب بے فکریوں میں ہم رہے حتی توارت بالحجاب 123