حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 105
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 105 الہامات لکھنے کی سعادت 1897ء کی بات ہے حضرت مفتی صاحب سفر گورداسپور میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں رہتے۔رات کے وقت کمرے میں ہی چار پائی ڈال کر سورہتے۔سونے میں بھی ہشیار اور فکر مند رہتے کہ کہیں ایسانہ ہو حضرت اقدس علیہ السلام کو کوئی کام ہو اور آپ کی گہری نیند کی وجہ سے آپ کو زحمت ہو ہلکی سی آواز پر اُٹھ بیٹھتے کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ مفتی صاحب کی چار پائی پر بیٹھ کر آپ کے بدن پر اپنا دست مبارک رکھتے جس سے آپ فوراً بیدار ہو جاتے۔بالعموم ایسا اُس وقت ہوتا جب کوئی تازہ الہام لکھوانا ہوتا۔سفر گورداسپور میں ایک دن سب لوگ کچہری گئے ہوئے تھے آپ لیٹے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سور ہے ہیں اس حالت میں آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا مجھے الہام ہوا ہے لکھ لو اتفاق سے اُس وقت وہاں لکھنے کے لئے کچھ نہ تھا آپ باورچی خانے سے کوئلہ لائے اور کاغذ پر لکھا حضور نے وقفے وقفے سے چند الہامات لکھوائے۔(خلاصہ، ذکر حبیب ص 319) حضرت مفتی صاحب کی ڈائری میں 21 اگست 1897ء کی تاریخ کے تحت چھ الہام درج ہیں (ذکر حبیب ص 221) ڈائری نویسی کی اچھی عادت کی وجہ سے سلسلے کی تاریخ میں کئی اہم واقعات یادداشتیں آپ کے حوالے سے مذکور ہیں۔تذکرہ میں صفحہ 353 پر جو الہام درج ہے اُس پر آپ کی ڈائری کا حوالہ ہے۔( ذكر حبیب ص 216) اسی طرح تذکرہ صفحہ 674 پر حضرت مفتی صاحب کا ایک بیان درج ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک صاحب جو غالباً ریاست جنید کے رہنے والے تھے بیمار ہو کر علاج کے واسطے قادیان آئے اور پیر سراج الحق صاحب کے مکان پر اُنہوں نے قیام کیا۔پیر صاحب نے اُن کی سفارش حضرت صاحب علا السّلام سے کی کہ یہ بیمار رہتے ہیں حضور ان کے لئے دُعا کریں۔حضور علیہ السلام نے دُعا کی تو حضور کو الہام ہوا: کچلہ ، کونین، فولاد۔یہ ہے دوائے ہمزاد ( تذکرہ ص674)