حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 104 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 104

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ اور میری بیوی مسمات امام بی بی بنت الہی بخش مرحوم کی وصیت ہے کہ اس کے ترکہ کا دسواں حصہ اس کام کو دیا جائے۔ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين۔محمد صادق عفی اللہ عنہ 1905 27 ایڈیٹر اخبار بدرقادیان ضلع گورداسپور 104 ( بدر 17 دسمبر 1908ء) یہاں یہ ذکر بھی از دیادِ ایمان کا باعث ہوگا کہ 1939ء میں ایک دفعہ حضرت مفتی صاحب تشویشناک حد تک بیمار ہو گئے اس کو وقت آخر سمجھتے ہوئے آپ نے ایک وصیت لکھ کر سرہانے رکھ دی یہ تحریر بھی آپ کے ایمان و اخلاص پر ایک نادر دستاویز ہے آپ نے لکھا: میں موصی ہوں اور اپنی آمدنی کا دسواں حصہ ہمیشہ انجمن کو ادا کرتا ہوں نیز میں وصیت کر چکا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد میرا جو تر کہ ہو اس کا بھی دسواں حصہ صدر انجمن احمدیہ کو اشاعت (دین) کے کاموں کے واسطے دیا جائے اور میری لاش کو بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے اس وصیت میں جو میں کر چکا ہوں اتنی اصلاح کرتا ہوں کہ جو دسواں حصہ میں دے چکا ہوں یا آئندہ دوں اور جو کچھ میرے ترکہ میں سے دیا جائے وہ اس شرط کے ساتھ مشروط نہیں کہ میری لاش مقبرہ میں دفن کی جائے بلکہ بغیر کسی شرط کے یہ سب رقم انجمن کی ہوگی خواہ میں مقبرہ میں دفن کیا جاؤں یا نہ کیا جاؤں۔مقبرہ میں دفن کیا جانے کو میں محض اللہ تعالیٰ کی بخشش اور فضل اور رحم پر چھوڑتا ہوں۔نہ کہ کسی اپنے اعمال پر۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ سے بخشش چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی بخشتا نہیں۔“