حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 46
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ ایک دو دن کے بعد جب میں واپس لاہور گیا تو حسب معمول مسجد گنٹی بازار لاہور میں ایک جلسہ کیا گیا اور اُس جلسہ میں یہ عاجز اپنے قادیان کے سفر کی رپورٹ سناتا تھا۔چنانچہ حضور کا یہ الہام اور اُس کی تشریح ایک گروہ کثیر کو وہاں سنائی گئی اور ہنوز میں عنا ہی چکا تھا کہ ایک شخص نے خبر دی کہ انجمن کو لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے جواب آ گیا ہے اور اُن کا میموریل نامنظور ہوا ہے اور مؤلف رسالہ امہات المؤمنین کسی قانون کے مواخذہ کے نیچے نہیں آ سکتا۔تب اس خبر کا سننا تمام حاضرین جلسہ کے واسطے از دیادِ ایمان کا موجب ہوا اور سب نے خدا تعالیٰ کے عجیب کاموں پر اُس کی حمد کی۔(راقم) حضور کی جوتیوں کا غلام محمد صادق واقعات صحیحہ 46 (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 ص 289،288) 1899 ء میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے حضرت اقدس علیہ السلام کی مخالفت شروع کی آپ نے انہیں تفسیر نویسی میں مقابلہ کی دعوت دی۔پیر صاحب نے چالاکی سے اپنے مریدین کو جمع کر کے یہ کوشش کی کہ جلسہ کی صورت ہو جائے جس میں شور مچا دیا جائے کہ مقابلہ پر کوئی نہیں آیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر لاہور سے اشتہارات شائع کر کے حقیقت حال واضح کی گئی یہ اشتہار مفتی صاحب نے تحریر کئے جن کو بعد میں ایک رسالہ کی شکل میں شائع کیا گیا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس رسالہ کا نام واقعات صحیحہ رکھا۔