حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 280 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 280

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ نمبر 4۔تمام مختلف گرجوں کے افسر ہم کو اطلاع دیتے ہیں کہ قوم مذہب سے بالکل بے پرواہ ہے اور انجیل ان پر اپنا کوئی اثر نہیں ڈال سکتی۔میں تعجب کرتا ہوں کہ اپنے اس امر کے واسطے اتنے اتنے وسیع سمندر چیرنے کی تکلیف اُٹھائی کہ ہمیں عیسائی تجربے سے آگاہ کریں۔جہاں تک میں دیکھ سکتا ہوں انجیل میں یسوع کا کوئی بھی ایسا حکم نہیں جو کسی عاقل اور دور اندیش کے لئے قابل عمل ہو۔مثال کے طور پر یسوع کے چار پانچ احکام کو لیتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی دانا ان پر عمل کر سکتا ہے۔اول : یسوع کہتا ہے کہ الزام نہ لگاؤ کیا تم کو عدالتیں فوراً بند کر دینی چاہیے۔حج فورا موقوف کر دینے چاہئیں۔دوم : یسوع کہتا ہے کہ کل کا فکر نہ کرو“ سوم : یسوع کہتا ہے کہ اپنا خزانہ زمین پر نہ رکھ۔چہارم: یسوع کہتا ہے کہ صدقہ پوشیدگی میں دے“ کیا مشنریوں کی تمام خیرات کی فہرستیں جو اخباروں میں چھپتی ہیں کفر سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔پنجم : یسوع کہتا ہے کہ اگر کوئی تیرا کوٹ لے تو اُسے چغنہ بھی دے دے۔“ کیا جب یوٹروں نے ہماری دانا گورنمنٹ سے ٹرانس وال پر جھگڑا کیا تو اُن کو ساتھ ہی کیپ کالونی بھی دے دینی چاہیے تھی۔مثال کے لئے یہ باتیں کافی ہوں گی۔یسوع کے تمام اصول اسی قسم کے ہیں۔اور اصل بات یہ ہے کہ یہ اصول ایک غریب چھوٹے سے گروہ کے واسطے تھے جو غریب یسوع کے پیچھے ہولیا تھا یسوع کا کبھی یہ منشاء نہ تھا کہ ایک عالمگیر مذہب دُنیا میں قائم کرے۔لیکن 280