حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 277
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 277 میں تین چار سال کی تھی جب ایک دفعہ نانا جان نے پوچھا تمہیں ایک آنہ چاہیے۔ایک آنہ معمولاً ملنے والے پیسوں سے چار گنا بڑا تھا۔ایک آنہ ملنے کے تصور سے خوشی کی انتہا نہ رہی اور میں نے جوش سے کہا جی جناب مجھے ایک آنہ چاہئے۔نانا جان نے میرے ہاتھ دُعا کے انداز میں اُٹھائے اور کہا اچھا دُعا کر والے اللہ ایک آنہ فلاں دیوار کی فلاں درز میں رکھ دے۔آمین۔دُعا کے بعد بھاگ کر گئی تو دیکھا اُس درز میں ایک آنہ مل گیا۔اس طرح بہت چھوٹی عمر میں اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا طریق سکھایا لیکن ابھی ایک اور سبق بھی دینا تھا۔میں نے دُعا کرنی شروع کر دی کہ اے رحیم خدا دیوار کی ہر درز میں ایک آنہ رکھ دے مگر یہ دُعا قبول نہ ہوئی تو پھر نانا جان کے پاس گئی۔آپ نے بتایا کہ صرف خواہش اور دُعا کافی نہیں ہوتی کوشش بھی کرنی ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پر ہے کہ وہ کون سی دُعا سنتا ہے کون سی نہیں۔ایک دفعہ امتحان میں چند دن باقی تھے، میں نے آپ سے دُعا کی درخواست کی تو آپ نے مجھے سمجھایا کہ خوب محنت کرو اور پھر دُعا کرو کہ اے اللہ میں نے جس قدر ممکن ہو سکا محنت اور کوشش کر لی اب مجھے بڑی کامیابی عطا فرما۔اس طرح ان دونوں واقعات سے اللہ تعالیٰ کی محبت ، اُس سے دُعا کرنی اور دُعا کے ساتھ پوری کوشش کرنے کا سبق ملا۔آپ ہمیشہ نرمی سے بات کرتے کبھی سختی سے ڈانٹ کر بات نہ کرتے۔ان کے سکھانے کا طریقہ تحمل، پیار اور نرم انداز میں احساس دلاتے رہنا تھا۔آپ باقاعدگی سے تہجد پڑھتے۔میری آنکھ کھلتی تو میں انہیں سجدے میں درد سے دُعائیں مانگتے سنتی۔اے اللہ اے رحیم و کریم خدا ہم پر رحم کر میں ایک عاجز گنہگار ہوں تو رب رحیم ہے اے اللہ جو سب سے زیادہ بخشنے والا ہے سب سے زیادہ مہربان ہے ہمارے گناہ بخش دے۔دُعا کے الفاظ کے ساتھ سسکیوں سے رونے کی آواز شامل ہوتی۔گھر میں ہوتے تو فجر کی نماز سب بچوں کو شامل کر کے جماعت سے پڑھاتے پھر قرآن مجید پڑھتے۔رمضان المبارک میں افطاری کا بہت اہتمام کرتے جس میں غرباء کو اور بچوں کو شامل کرتے۔اسی طرح آپ کو بیماروں کا بہت خیال رہتا۔