حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 241 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 241

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 241 بار لاہور میں۔دونوں دفعہ حضرت مفتی صاحب اس میں شامل تھے۔الفضل 20 مارچ 1928 ءص1) اس وفد نے احمدی نکتہ خیال سے سیاسی امور پر اپنی رائے کا اظہار کیا جس نے پہلے جماعت احمدیہ کے عقائد بتائے اور ممبران کمیشن کولٹریچر پیش کیا۔حضرت خلیفہ امسیح کا نہر ور پورٹ پر تبصرہ کتابی شکل میں شائع کر کے خاص طور پر کلکتہ اور دہلی میں پھیلا دیا گیا۔کئی اصحاب نے حضرت مفتی صاحب سے کہا : م صلی اور عملی کام تو آپ کی جماعت کر رہی ہے اور جو تنظیم آپ کی جماعت میں ہے وہ کہیں نہیں دیکھی جاتی۔“ کلکتہ کنوینشن میں مسلم لیگی نمائندے نہرورپورٹ کے حامی نظر آئے مگر حضرت مفتی صاحب نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ہم اس کے مخالف ہیں اور اس کے خلاف ہمارے رسالے اور مضامین شائع ہوئے، لیکچرز دئے گئے ، مجالس قائم کی گئیں مگر اس کے باوجود ہم نے کنوینشن کی دعوت قبول کی اور اس میں شامل ہوئے کیونکہ ہم بائیکاٹ کے قائل نہیں۔ہماری رائے ہے کہ سب سے ملنا چاہیے۔پھر خواہ ہماری بات تسلیم ہو یا رڈ کر دی جائے لیکن سب کے خیالات سُن لینا ضروری ہے۔آپ نے نہرورپورٹ میں ترمیم کے لئے دس نکات پیش کئے جن سے جماعت احمدیہ کے سیاسی خیالات خوب کھل کر سامنے آگئے۔خلاصہ از الفضل 18 مارچ 1928ء) مسلم مطالبات کی پامالی دیکھ کر تمام مشہور مسلمان نمائندے دہلی میں جمع ہوئے۔31 دسمبر 1928ء سے 2 جنوری 1929 ء تک آل انڈیا مسلم کانفرنس کا انعقاد ہوا۔اس کانفرنس میں متعدد احمدی منتخب ہو کر شامل ہوئے۔مرکز سے جماعت کی نمائندگی حضرت مفتی صاحب نے کی۔کانفرنس کے آغاز میں سر شفیع صاحب نے جو قرار داد پیش کی اس میں بیشتر نکات حضرت خلیفہ المسیح کے تجویز کردہ تھے۔یہی وہ قرارداد تھی جو قائد اعظم کے چودہ نکات کی بنیاد بنی۔اس کا نفرنس میں