حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 225 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 225

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 225 اس پر اس کی محبت پر افسوس غالب آگیا یہ نہیں ہوسکتا، یہ نہیں ہوسکتا اتنا اچھا دین کا خادم اور قادیانی۔واپس قادیان دار الامان میں جہاز 9 نومبر کو روانہ ہو کر 23 نومبر کو مبئی پہنچ گیا۔(الفضل 27 نومبر 1923ء ص 7) 4 دسمبر بروز منگل مغرب کے وقت آپ اپنی محبوب بستی قادیان دارالامان واپس پہنچے ( افضل 4 دسمبر 1923ء ص 1) ل حمد وشکر سے لبریز تھا۔حضرت خلیفہ اسی الثانی نے ایک مجمع کثیر کے ساتھ سڑک کے موڑ کے قریب استقبال کیا۔حضرت خلیفہ اسیح کے ہاتھوں میں ہاتھ تھا، اهلا و سهلا کے نعرے بلند ہورہے تھے۔دیر تک مشتاق دید احباب سے مصافحے ومعانقے ہوئے۔قادیان کی طرف جاتے ہوئے آپ نے بتایا کہ راستے میں طبیعت بے حد خراب ہوگئی تھی۔سمندری سفر تکلیف دہ ہو گیا تھا۔میں نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی اور سمندر سے مخاطب ہو کر کہا: ”اے سمندر تجھ کو معلوم نہیں کہ تجھ پر کون جارہا ہے یہ مسیح کا ایک خادم ہے جو اپنے نفس کے لیے نہیں بلکہ خدا کے دین کی خدمت کے لئے جا رہا ہے کیا تو مجھے دھوکا دے گا۔“ خواب میں دیکھا کہ آسمان سے دو بڑے ہاتھ اُترے اور جہاز کو دبا لیا جب آنکھ کھلی تو دیکھا سمندر بالکل ساکن تھا اور جہاز اس طرح چل رہا تھا جیسے بالکل خشک جگہ پر چل رہا ہو۔یہ مبارک قافلہ سیدھا بیت مبارک پہنچا۔آپ نے شکرانے کے نفل پڑھے۔حضرت خلیفۃ المسیح نے مغرب کی نماز میں لمبی دعا کرائی۔پھر مفتی صاحب نے مختصر سا خطاب کیا جس میں آپ نے بتایا کہ سات سال کے بعد وطن لوٹے ہیں۔کئی دکھ درد کے قصے ہیں جو بعد میں سنائیں گے، اس وقت تو صرف شاندار استقبال کا شکر یہ ادا کرنا ہے۔سوائے قادیان کے کہیں امن نہیں۔مشرق جنت ہے ہم نے مغرب کو جنت بنانا ہے۔آپ نے فرمایا: اس خوشی میں کہ خدا نے محمود جیسا مقدس امام ہمیں عطا کیا ہے۔معجزانہ کام ہور ہے