حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 20
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ ہے۔سب کچھ قصوں میں پڑھتے ہیں دیکھنے میں کچھ نہیں آتا۔“ 20 یہی آرزو تھی جس کی آسمان نے دستگیری کی اور نورحق کی طرف آپ کی راہیں کھلنے لگیں۔سب پہلے ایک شخص حکیم احمد دین صاحب سے یہ ذکر سنا کہ قادیان میں ایک مرزا صاحب ہیں جن کو الہام ہوتے ہیں یہ 1885ء کا زمانہ تھا۔آپ کے لئے یہ بات بہت تعجب خیز تھی کیونکہ سننے میں یہی یا تا کہ الہام کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔انوکھی بات ہونے کی وجہ سے ذہن میں رہ گئی۔ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ بھیرہ میں حضرت حکیم نور الدین صاحب (خلیفہ اسیح الاوّل) کا مکان آپ کے مکان کے بہت قریب تھا۔قرابت داری بھی تھی۔حضرت حکیم صاحب کی پہلی بیوی محترمہ فاطمه بی بی صاحبہ جو مکرم مفتی شیخ مکرم صاحب قریشی عثمانی بھیروی کی صاحبزادی تھیں مفتی صاحب کی رشتے میں خالہ تھیں۔گھریلو تعلق کی وجہ سے آپس میں آنا جانا تھا۔اس طرح بعد میں صدیق کے مقام پر فائز ہونے والے نادر وجود سے شناسائی کا شرف حاصل تھا۔آپ کو بچپن کا ایک واقعہ یاد تھا کہ ایک دفعہ حضرت حکیم صاحب کے گھر گئے تو انہوں نے ایک چھوٹا سا سبز رنگ کا قلمدان تحفہ دیا۔بچے کو دیا گیا یہ تحفہ ایک اشارہ غیبی ثابت ہوا۔بعد میں آپ کو تمام عمر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی فوج میں قلم کے ہتھیار سے جہاد کا موقع ملا۔بچپن کی یادوں میں یہ بھی محفوظ تھا کہ ایک دفعہ دوا پکڑنے کے لیے بایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو حضرت حکیم صاحب نے ٹوک دیا کہ دایاں ہاتھ آگے بڑھانا چاہیے۔تعلیم القرآن مفتی صاحب کے والد صاحب کو بچے کو قرآن کریم پڑھانے کا بہت شوق تھا۔اس غرض سے سب سے پہلے جس اُستاد پر نظر مظہری وہ حضرت حکیم نورالدین تھے مگر اُن دنوں وہ جموں میں رہائش رکھتے تھے۔بچے کی اچھی تعلیم کی خاطر فیصلہ کیا کہ بیٹے کو جموں بھیج دیا جائے۔چنانچہ 1888ء میں کمزوری صحت کے باوجود خود بیٹے کو لے کر جموں گئے اور حکیم صاحب کے حوالے کر کے کہا: