حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 158
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 158 یا کمزوری نے اسے خاص پیغام پہنچانے سے روک دیا تو پھر وہ نا کام ہے اگر چہ ساری دنیا اس پر راضی ہو جائے۔دہلی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دروازہ توڑا گیا مگر حضرت کامیاب تھے اور امرتسر میں آپ پر پتھر پھینکے گئے اور لیکچر کسی نے نہ سنا مگر آپ کامیاب تھے۔صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب پتھروں کے درمیان مارے گئے مگر وہ کامیاب اور با مراد اس دنیا سے گزرے کیونکہ ان واقعات نے کلمہ حق کی اشاعت کی اور اللہ تعالیٰ کے تازہ نشان جو آسمان سے نازل ہوتے تھے وہ ان واقعات کے ذریعہ سے زمین پر پھیلے۔پس صادق کی کامیابی اسی میں ہے کہ ملامت سے نہ ڈرے ہاں نیک نیتی کے ساتھ حکمت سے کام لینا ضروری ہے۔لیکن اس کا نام حکمت نہیں کہ اصل مقصد ہاتھ سے جاتا رہے۔غرض ہم نے یہاں حق پہنچانا ہے اور صاف لفظوں میں پہنچایا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور ہم پر اس کی غریب نوازی ہے کہ ہم کسی تکلیف اور ابتلاء میں نہیں ڈالے گئے۔لیکن ہم نے اپنے آپ کو ہر وقت اس امر کے لئے تیار کر رکھا ہے کہ حق کے اظہار سے جو ہو سو ہو۔“ 6 حیدر آباد میں درس قرآن کا سلسلہ بھی جاری رہا۔درس سے استفادہ کرنے والوں میں سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب بھی تھے جو بعد میں مخلص فدائی دین ثابت ہوئے۔سیٹھ صاحب اپنے گھر پر بھی درس اور تقریروں کا اہتمام کرتے رہے۔سعادت مندی اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی اور آپ کو سلسلہ میں داخل ہونے کی توفیق مل گئی۔دکن میں آپ کی دعوت الی اللہ سے ایک غریب یکہ بان کا دل بھی حق کے لئے کھل گیا۔یکہ پر بیٹھنے سے لے کر اُترنے تک آپ اُسے آسان انداز میں مسائل سمجھاتے رہے۔آپ کا سفر ختم ہوا تو اُس کی کایا پلٹ چکی تھی ، بیعت کی درخواست کر رہا تھا۔حضرت مفتی صاحب نے ایک ہال کرایہ پر لے رکھا تھا جہاں روزانہ لیکچر ہوتے اور سوالات کے جوابات دیئے جاتے۔ایک لیکچر تھیوسوفیکل ہال میں بھی ہوا جس کا عنوان ”اسلام اور