حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 129
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 129 ان کو کھانا اور پانی دینا۔خدا تو غنی ہے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں کہ اس سے پیار کرنے والے اپنی محبت کے جوش میں اس کی دعوت کریں اور اسے روٹی کھلا ئیں لیکن چونکہ انسان آخر انسان ہے۔وہ اپنی محبت کا اظہار انسانیت کے رنگ میں ہی کر سکتا ہے اس واسطے خدا نے اپنے خاص بندوں کو دنیا میں بھیجا ہے تا کہ اس کے نام پر جو کوئی ان بندوں کی خدمت کرے وہ خدا کی خدمت سمجھی جائے۔افسوس ان پر صد ہزار افسوس جنہوں نے خدا کے برگزیدہ کو سوائے گالیوں کے کوئی تحفہ نہ بھیجا اور سوائے اعتراضات کے کوئی دعوت سامنے پیش نہ کی۔وہ دنیا میں آیا اور چل دیا، پر انہوں نے اپنے واسطے سوائے جہنم کے کسی بات کی تیاری نہ کی۔پر مبارک ہو تم پر میرے بھائیو کہ خدا تعالیٰ نے ایسی تاریکی کے زمانہ میں تمہاری دستگیری کی اور تمہیں اپنے مہدی کے ذریعہ ہدایت یافتہ بنایا اور اپنے مسیح کے طفیل تمہاری روحوں کو برائیوں سے اور بداعتقادات سے نجات دی۔خدا کا تم پر فضل زیادہ سے زیادہ ہو تم آسمان پر رسول کے ساتھیوں میں لکھے گئے اور خدا نے تمہیں خاص کام کے واسطے برگزیدہ کیا۔لیکن میرے پیار و غم نہ کرو اور حزین مت بنو کیونکہ ضرور ایسا تھا کہ ایسا ہوتا کہ تم آزمائے جاؤ اور خدا کے دشمنوں سے دُکھ اُٹھا کر اور ناگوار باتیں سن کر پختہ ہو جاؤ اور تاکہ تمہارے ساتھ بھی وہ سنت پوری ہو جائے جو صحابہ رسول کریم حضرت محمدمصطفی سلیم ایم کے ساتھ ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو سب نے آپ سال تا پریتم کی وفات کو قبل از وقت سمجھا۔سو میرے دوستو تم بھی اس وقت صبر سے کام لو اور صحابہ کا درجہ پاؤ۔“ ( بدر 11 جون 1908ء) اس کے بعد حضرت مفتی صاحب نے اس خط میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کئے گئے مختلف اعتراضات کا مسکت جواب دیا اور آپ کے فضائل لکھے اور بتایا کہ دراصل ہمارا مسیح زندہ ہے اور نہیں مرے گا کہ ہمارا خدا زندہ ہمارا نبی زندہ ہمارا مسیح زندہ۔