حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 112 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 112

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 112 حضرت مفتی صاحب اپنے آقا کے حضور جس اخلاص و فدائیت سے مکتوب لکھتے اُن میں القاب و آداب اور اختتام کے انداز سے عجیب عاشقانہ رنگ جھلکتا۔ایک خط دیکھئے: مرشد ناومهدینا نائب رسول صلی اللہ علیہ وسلم السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته گزشتہ ہفتہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور میں ذرا ہٹ کر خادموں کی طرح پاس کھڑا ہوں۔اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑوں کی ایک بستنی کھولی۔اور اس میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوٹ نکالا جو کہ بادامی رنگ کا مضبوط بنا ہوا دکھائی دیتا تھا۔اور اس پر بادامی ہی رنگ کے گول گول بٹن بھی لگے ہوئے تھے جو کہ صرف زیبائش کے لئے لگائے جاتے ہیں۔میرے دل میں یہ خیال ہے کہ یہ میں نے ہی یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا۔سو وہ بوٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ میں لیا اور میری طرف دیکھ کر کچھ ناراضگی کے طور پر ارشاد فرمایا کہ: ” کیوں جا یہ کیا!" اس فقرہ سے میں نے اپنے دل میں خواب کے اندر یہ سمجھا کہ آپ مالی پیام فرماتے ہیں کہ اس سے عمدہ قسم کے بوٹ ہمیں تم سے آنے کی امید تھی۔مگر میں شرمندگی سے خاموش ہوں اور اس خواب کی تعبیر میں نے سمجھی تھی کہ اس سے مراد اس خدمت میں کمی اور نقص ہے جو کہ میں حضور اقدس علیہ السلام کی کرتا ہوں کیونکہ میں اپنے خطوط میں لکھا کرتا ہوں کہ میں حضور اقدس نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کا غلام ہوں اور خواب میں بھی مجھے یہی دکھلایا گیا ہے کہ گویا میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک جوتی بھیجی ہے۔سو میں نے ایک تو ارادہ کیا ہے کہ بجائے ۳ روپئے کے