حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 35
ٹاؤن میں ایک پان فروش تھا جس کا چھوٹا سا کھوکھا بڑی سٹرک کے کنارے یہ ہوتا تھا۔میں بھی کبھی اس سے پان لیتا تھا۔ایک دن مجھے کہنے لگا وہ بزرگ جن کا کارخانہ ہے وہ آپ کے کیا لگتے ہیں؟ میاں صاحب فرماتے ہیں شائد اس نے میرے نقوش سے اندازہ کیا ہو یا مجھے بھی آپ کے ساتھ دیکھا ہو۔میں نے کہا کیوں کیا بات ہے۔کہنے لگا ایک دن وہ دکان پر تشریف لائے پوچھا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ کساد بازاری ہے۔تو جیب سے سو روپیہ کا نوٹ میرے ہاتھ میں تھما کر چل دیئے۔میں نے کہا وہ روپے واپس کرنے ہیں لیکن میاں صاحب نے وہ روپے واپس لینے کے لئے دیئے کب تھے۔حاجت روائی مکرم چوہدری ظہوراحمد صاحب باجوہ بیان کرتے ہیں : ایک دوائی بہت نایاب تھی اور خود ان کے لئے بھی وہ کافی نہ تھی۔ایک حاجتمند آیا اور اس نے سوال کیا تو آپ نے قریباً نصف شیشی اس کے ہاتھ میں تھمادی۔راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ وہ اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے ایک دشمن مقامی سکھ کو تھوڑا سا مشک مانگنے پر تمام نافہ ہی دے دیا تھا۔یہ ہیں نازشِ ( ناز فخر ) بنی نوع انسان جنہیں زمانہ صدیوں یاد رکھتا ہے۔35