حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 34
آپ کے غیر معمولی وقار وجاہت اور پر تاثیر شخصیت کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ کو حکومت کی طرف سے اسٹنٹ ریکروٹنگ افسر لا ہور امیر یا مقرر کیا گیا تھا اور آپ سے سینئر افسروں کا حلقہ اس سے چھوٹا تھا لیکن آپ تمام کام آنریری طور پر ہی کرتے اور اس کا کوئی معاوضہ حکومت سے نہ لیتے تھے۔اس زمانہ میں لوگ ایک ایک ریکروٹ کے لئے سر ٹیفکیٹ حاصل کرتے۔لیکن آپ اپنے ریکروٹ دوسروں کے نام لگوادیتے۔محترم چوہدری ظہور احمد صاحب فرماتے ہیں کہ 25 ریکروٹ تو آپ نے میرے ہی نام لگوائے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب ان خدمات کے عوض لوگ بڑے بڑے انعامات اور صلے پاتے لیکن آپ نے کبھی اس کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ کبھی خواہش بھی نہیں کی۔چوہدری صاحب روایت کرتے ہیں کہ حضرت میاں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ لاکھوں ہندوستانی اس وقت محاذ جنگ پر ہیں ان کی جانوں کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ اور بھرتی دی جائے اور ہندوستان کی آزادی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اگر انگریز کو شکست ہوگئی تو ہندوستان کی آزادی خطرہ میں پڑ جائے گی۔اس انداز فکر سے آپ کے تدبر اور نکتہ رسی کا پتہ چلتا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب فرماتے ہیں: تقسیم ملک کے بعد ہم شروع شروع میں ماڈل ٹاؤن میں رہتے تھے۔ماڈل 34