حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 24
سیکرٹری اس واقعہ سے بہت متعجب ہوا اور کہنے لگا۔واقعی آپ لوگوں کا خدا نرالا ہے۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت میاں صاحب کا خدا تعالیٰ سے کتنا تعلق تھا اور آپ کس طرح اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا کرتے تھے۔حضرت میاں صاحب ایک دفعہ تانگہ میں سفر کر رہے تھے کچھ اور لوگ بھی آپ کے شریک سفر تھے۔کچی سڑک اور جھاڑیوں کے درمیان سے تانگہ گزر رہا تھا کہ اچانک گھوڑا بدک کر رک گیا۔کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بہت بڑا سانپ سڑک کے عین درمیان میں اپنا پھن پھیلائے کھڑا ہے۔سب لوگ اس سے بچنے کی تدبیریں کرنے لگ گئے۔آپ فرماتے تھے کہ ” میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے پھر بھی سب لوگ اس سانپ سے خائف رہتے ہیں آپ تانگہ سے نیچے اترے اور سیدھے سانپ کی طرف تیزی سے چلنے لگے۔کچھ دیر تو سانپ کھڑا رہا۔جب آپ زیادہ قریب آئے تو سانپ آپ کے آگے دوڑ پڑا اور ایک جھاڑی میں چھپنے کی کوشش میں تھا کہ آپ نے اسے مار دیا۔آپ کو بندوق کے نشانہ میں خاصی مہارت حاصل تھی۔آپ اکثر بڑے بڑے شکاروں کے لئے جاتے۔ایک دفعہ ہریال (ایک قسم کا جانور ) کے شکار کے لئے تشریف لے گئے۔آپ نے کئی ہریال شکار کئے اور کوئی نشانہ خطا نہ گیا۔بلکہ آپ دوسروں کو بتلا دیتے کہ آپ نے سب سے بڑے ہڑیال کو 24